وفاقی وزیر توانائی کا رمضان میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور سولر پر ٹیکس نہ لگانے کا اعلان

وفاقی وزیر توانائی کا رمضان میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور سولر پر ٹیکس نہ لگانے کا اعلان

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطار کے اوقات میں عوام کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ سولر پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ سولر انرجی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جائے گی۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس کی صدارت محسن عزیز نے کی، جس میں معاون خصوصی برائے پاور محمد علی نے آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسی آئی پی پی پر زبردستی دباؤ نہیں ڈالا اور نہ ہی انہیں کوئی منوانا ضروری سمجھا۔ سینیٹر شبلی فراز نے آئی پی پیز کے فارنزک آڈٹ کی ضرورت پر سوال اٹھایا، جس کے جواب میں محمد علی نے بتایا کہ پاکستان میں 50 سے 60 پاور پلانٹس کے فارنزک آڈٹ کی مہارت نہیں ہے اور اس میں بھاری اخراجات آتے ہیں، تاہم ان پلانٹس میں سے ایک کا آڈٹ جاری ہے۔

محمد علی نے مزید بتایا کہ آئی پی پیز نے اپنی بیلنس شیٹس کا جائزہ لیا ہے اور اوور انوائسنگ ثابت کرنا بغیر ثبوت کے مشکل ہے، البتہ بات چیت کے ذریعے 300 ارب روپے کے لیٹ پیمنٹ سرچارج معاف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے عوام کو جلد ریلیف منتقل ہوگا۔اویس لغاری نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت سے 1400 ارب روپے کا فائدہ ہوگا اور بجلی کی قیمت میں مزید کمی متوقع ہے، جو جون 2024 تک 4 سے 11 روپے فی یونٹ تک ہو سکتی ہے۔