سنگاپور کے ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزمرہ استعمال کی جانے والی پروبائیوٹک غذائیں جیسے دودھ، دہی اور کیلا ڈپریشن سے بچاؤ میں کردار ادا کر سکتی ہیں، تحقیق کے مطابق یہ غذائیں نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنا کر ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔یہ تحقیق خوراک، آنتوں اور ذہنی صحت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو مزید مضبوط کرتی ہے، ماہرین یہ جاننا چاہتے تھے کہ غذا کس طرح نظامِ ہاضمہ کو متاثر کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں ذہنی کیفیت پر کیا اثر پڑتا ہے۔اس مقصد کے لیے سائنس دانوں نے چوہوں پر تجربات کیے، سب سے پہلے چوہوں میں ایک ایسی بیماری پیدا کی گئی جو ڈپریشن سے ملتی جلتی تھی، بعد ازاں ان کے معدے، آنتوں اور غذائی نالی میں ہونے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا۔تحقیق میں سامنے آیا کہ نظامِ ہاضمہ میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا ایک کیمیکل جزو انڈول پیدا کرنے لگتے ہیں، جو دماغ پر منفی اثر ڈال کر ڈپریشن جیسی علامات کو جنم دیتا ہے۔کیا ویپنگ واقعی سگریٹ نوشی سے بہتر ہے؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دیماہرین کے مطابق جب یہ ڈپریشن سے جڑے مادے آنتوں سے دماغ تک پہنچتے ہیں تو وہاں کیلشیم ڈیپنڈنٹ SK2 نامی ایک پروٹین بننا شروع ہو جاتی ہے، جو ڈپریشن جیسے رویّوں کی بڑی وجہ بنتی ہے۔اس سے یہ بات مزید واضح ہوئی کہ آنتوں میں بیکٹیریا کا توازن بگڑنے سے دماغی کیمسٹری براہِ راست متاثر ہو سکتی ہے۔تحقیق کے اگلے مرحلے میں چوہوں کو پروبائیوٹک غذائیں دی گئیں، جس کے بعد ان کے نظامِ ہاضمہ اور ذہنی کیفیت کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، نتائج حیران کن تھے۔