عمران سے ملاقات کیلئے بہنوں کا دھرناآپریشن کے بعد ختم

شرکا نے پلاسٹک کے شاپر ڈھال بنائے، علیمہ و کارکن چلے گئے
علیمہ مذاکرات نہ کرنے کا کہہ رہی ہیں تو پیغام آیا ہوگا، بیرسٹر گوہر
راولپنڈی، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )بانی پی ٹی آئی عمران کی بہنوں نے فیکٹری ناکہ سے دھرنا ختم کر دیا۔ پولیس نے فیکٹری ناکہ پر آپریشن کیا تو شرکا نے پلاسٹک کے شاپر بطور ڈھال پہن لئے۔بانی کی بہنیں،کارکنوں سمیت فیکٹری ناکہ سے اٹھ کر گورکھپور کی جانب روانہ ہو گئے،دھرنا دینے والوں نے جگہ چھوڑ دی ، قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پران کی بہن علیمہ خان اور کارکنوں نے اڈیالہ کے قریب دھرنا دے دیا تھا۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے مذاکرات نہ کرنے کا پیغام دیا ہے، اب جب عمران خان نے پیغام دے دیا تو اب کوئی مذاکرات کا کہے گا تو وہ بانی کی پارٹی کا نہیں ہوگا۔فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ نے کہا کہ بانی کو قید تنہائی میں رکھا ہے، یہ بتانہیں سکے کہ بانی کو کیوں قید تنہائی میں رکھا ہے؟ بانی نے سہیل آفریدی کو کہہ دیا ہے تیاری پکڑو سڑکوں پر نکلیں گے، ہم یہاں ملاقات کے لیے بیٹھے ہیں، ہم دنیا کو دکھا رہے ہیں ہمارا آئینی حق چھینا جارہا ہے، بانی پر مینٹل ٹارچر کیا جارہا ہے، بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ہم بانی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ جب بانی احتجاج کہ کال دیتے ہیں یہ چوری شدہ مینڈیٹ کے ڈرپوک لوگ فوری مذاکرات پر آجاتے ہیں۔راولپنڈی داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اچکزئی کے پاس اگر مینڈیٹ موجود ہے تو ضرور مذاکرات کریں لیکن اگر علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس مذاکرات کے اختیارات موجود نہیں تو ضرو کوئی مسیج آیا ہوگا۔ملاقات ضرور ہونی چاہیے، مسائل بڑھ رہے ہیں ملک پہلے مشکلات سے دوچار ہے کچھ نہ ہو تو سال ختم ہونے سے قبل ملاقات ہونی چاہیے، بہنوں کی ملاقات پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے، بشریٰ بی بی کی فیملی کو بھی ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے۔گزشتہ 70 سال سے اس حمام میں سب ایک جیسے ہیں، گوہر علی خان نے کہا کہ جہاں تک میری ذاتی بات ہے بس اب بہت ہوگیا۔پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ اختیار نہ رکھنے والی حکومت سے مذاکرات ممکن نہیں ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ بامقصد اور بااختیار مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہیں۔ ہمارے ساتھ یہی رویہ رہا تو سیاسی مفاہمت ممکن نہیں رہے گی۔ترجمان خیبرپختونخوا حکومت شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے دو نقاط ہیں نئے الیکشن کروائے جائیں اور 8 فروری کا چوری کردہ مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ترجمان بانی پی ٹی آئی وبشری ٰبی بی نیاز اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی سزا یافتہ شخص سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے مگر ہمیں نہیں دی جارہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ملاقات نہیں کروائی جارہی آٹھ ماہ سے میری ملاقات نہیں ہوسکی۔