سابق صدر پاکستان عارف علوی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تبدیلی آنے والی ہے اور عوام پُراُمید ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں سیاسی بحران اور مسائل کے باوجود عوام کے اندر تبدیلی کے لیے ایک مثبت جذبہ پایا جا رہا ہے۔عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر ایوب کو اس وقت ضمانت کے پیچھے نہیں بلکہ مذاکراتی عمل میں ہونا چاہیے تھا۔سابق صدر نے مزید کہا کہ ملک میں سیاست دانوں کو عدالتوں کے پیچھے لگایا گیا اور جو لوگ کام کرنا چاہتے تھے، ان پر بے بنیاد کیسز ڈالے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ملٹری کورٹس جیسے فیصلے کیے جائیں گے تو دنیا اس کی مذمت کرے گی۔عارف علوی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں آئی اور حکومت نے ملک کے آئین اور جمہوریت کو تباہ کر دیا ہے۔
ان کے مطابق، ملک کی زمین اور دولت کو لوٹا جا رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں غریب عوام مزید غریب ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت مافیا طاقتور ہو چکا ہے اور وہ سب کچھ لوٹ رہا ہے، جبکہ غریب عوام کے پاس کچھ نہیں بچا۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ اصل ثالثی اس وقت ہوگی جب عوام کے مسائل کو حل کیا جائے گا، اور اس کا مطلب صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہو گا۔سابق صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کے لیے عوام کے مسائل کے حل کی ضرورت ہے، اور انہیں انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیے۔