سوشل میڈیا کمپنی نے ریاست میں افراد کی ذاتی تفصیلات کو غلط طریقے سے استعمال کیا
نیو میکسیکو(آئی این پی)فیس بک کی سرپرست کمپنی میٹا کو صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ نہ کرپانے پر ریکارڈ 25 ارب ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کیس میں میٹا کو یہ سزا سنائی۔اس کمپنی نے 2018 میں بتایا تھا کہ ایک سیاسی تجزیہ کار کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا نے 8 کروڑ 70 لاکھ فیس بک صارفین کی ذاتی تفصیلات حاصل کرکے امریکی ووٹرز کی پروفائلز تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔نیو میکسیکو ریاست نے 2021 میں فیس بک کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنی نے ریاست میں رہنے والے افراد کی ذاتی تفصیلات کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔عدالتی جیوری نے ستمبر 2026 میں دریافت کیا تھا کہ میٹا نے نیو میکسیکو کے ریاستی ان فیئر (unfair) پریکٹیسز ایکٹ کی خلاف ورزی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بار کی ہے۔اسٹیٹ ڈسٹرکٹ کورٹ جج فرانسس میتھیو نے فیصلے میں کمپنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے عوام کو گمراہ کرنے سے متعلق حکمت عملی کو اپنایا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ صارفین کے ڈیٹا پر ان کے کنٹرول کے حوالے سے کمپنی نے ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار غلط بیانی کی اور اس طرح کی دھوکا دہی فیس بک کے بزنس ماڈل کی بنیاد نظر آتی ہے۔دوسری جانب میٹا نے کہا کہ کمپنی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔واضح رہے کہ میٹا کو اس وقت متعدد عدالتی مقدمات کا سامنا ہے اور یہ مقدمات اس کے بزنس پر دبا بڑھا رہے ہیں۔البتہ ابھی تک عدالتی جرمانے اور تصفیے میں ادا کی جانے والی رقم کمپنی کی آمدنی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔