پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 500 سے ساڑھے500‘پہاڑی علاقوں میں 600 روپے کلو فروخت
اوگرا کی جانب سے اقدامات نہ ہونے کے باعث صارفین کو ریلیف نہیں مل رہا:ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن
ایل پی جی کمپنیوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ ہڑتال کرکے اپنے پلانٹس بند کر دیں گے: اوگرا افسر
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) ملک بھر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھا دیں، ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے ایل پی جی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، پہاڑی علاقوں میں گیس 600 روپے فی کلو جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اگر قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دنوں میں ایل پی جی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے سرکاری قیمت مقرر کیے جانے کے باوجود مارکیٹ میں ایل پی جی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ اوگرا کے ایک اعلی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا تین چار روز سے اس حوالے سے اعلی سطح پر میٹنگ ہوئی جس میں مختلف اداروں کے افسر بھی شریک ہوئے جس میں بتایا گیا کہ تفتان بارڈر بند ہونے سے قیمت میں اچانک اضافہ ہوا، ملکی ضروریات کی 70 فیصد ایل پی جی امپورٹ ہوتی ہے جبکہ 30 فیصد ملکی پیداوار ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر اس وقت ایل پی جی کمپنیوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ ہڑتال کرنے سمیت اپنے پلانٹس بند کر دیں گے جبکہ دکاندار بھی ان کے ساتھ مل کر ہڑتال میں شامل ہو جائیں گے، اس وجہ سے ایل پی جی مہنگی فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا