اسلام آباد: وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید فنڈز فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ان کے مطابق صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ بھی دیا جاتا ہے، جبکہ اس مد میں ساڑھے 8 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی کے تحت ملنے والی اضافی رقم دیگر صوبوں کے حصے سے الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت مالی تعاون فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔وزیر مملکت نے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے فنڈز کے آڈٹ سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے تعاون سے آڈٹ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم آڈٹ رپورٹ سے متعلق محکمہ جاتی اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا ایک اجلاس ابھی باقی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی اے سی کا اجلاس مکمل ہونے کے بعد آڈٹ رپورٹ سیفران کمیٹی میں پیش کی جائے گی، جہاں اس کا جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ امور پر مزید پیش رفت ہو سکے گی۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سیفران کمیٹی نے ہی مزید فنڈز جاری نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی مالی وسائل فراہم کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنڈز کے اجرا اور استعمال سے متعلق معاملات کو متعلقہ فورمز پر مکمل کیا جائے تاکہ مالی وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔