مطالبات منظور نہ ہونے پر تاجروں کا شٹر ڈاؤن ہڑتال کا عندیہ

مطالبات منظور نہ ہونے پر تاجروں کا شٹر ڈاؤن ہڑتال کا عندیہ

لاہور میں تاجر تنظیموں اور سیاسی نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پیرا فورس کی مبینہ کارروائیوں، جرمانوں اور تاجروں کو ہراساں کیے جانے کے الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

 اجلاس کا اہتمام مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ صنعت و تجارت کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں شہر کی بڑی مارکیٹوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں شاہ عالم مارکیٹ، رنگ محل مارکیٹ، ہال روڈ مارکیٹ، موتی بازار اور اعظم مارکیٹ سمیت مختلف تجارتی مراکز کے صدور اور نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر تاجروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مبینہ طور پر پیرا فورس کے اہلکاروں کی کارروائیاں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں اور چھوٹے و بڑے تاجروں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جس سے کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پیرا فورس کے اختیارات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور تاجروں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور ہراسانی کے واقعات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی یا سخت رویہ ناقابل قبول ہے۔اس موقع پر تاجر رہنما عمر بٹ نے کہا کہ بھاری جرمانے اور مبینہ سخت اقدامات سے نہ صرف روزمرہ کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ چھوٹے دکانداروں کی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اگر مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر نے کہا کہ تاجر ملک کی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تضحیک آمیز رویہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے تحفظ اور ان کی عزتِ نفس کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ کاروباری طبقے کے تحفظ، مارکیٹوں میں استحکام اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو تاجر برادری شٹر ڈاؤن ہڑتال سمیت احتجاج کے دیگر راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔