کراچی: ترقی پذیر آٹھ اسلامی ممالک (ڈی 8) کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ڈی 8 ہیلتھ سمٹ 2026ء آج سے کراچی ایکسپو سینٹر میں شروع ہو رہا ہے، جو 25 جولائی تک جاری رہے گا۔
یہ بین الاقوامی سربراہی اجلاس ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ، ورلڈ ایجنگ کونسل اور کراچی ہیلتھ کیئر ایکسپو اینڈ کانفرنس کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس سال سمٹ کا مرکزی موضوع "صحت مند اور عمر دوست ڈی 8 ممالک" رکھا گیا ہے۔سمٹ کے دوران صحت سے متعلق سفارت کاری، عمر رسیدہ آبادی کو درپیش چیلنجز، احتیاطی طبی خدمات، طویل اور صحت مند زندگی (Longevity)، طبی سیاحت، ڈیجیٹل ہیلتھ، موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر اثرات اور پائیدار صحت کی پالیسیوں جیسے اہم موضوعات پر مقامی اور بین الاقوامی ماہرین اظہارِ خیال کریں گے۔تقریب کے دوران ممتاز ماہرِ عمر رسیدگی (Gerontologist) ڈاکٹر کمال آیدِن "عالمی صحت اور عمر رسیدگی کی سفارت کاری: ڈی 8 ممالک کے لیے مستقبل کا وژن" کے عنوان سے کلیدی خطاب کریں گے، جس میں وہ بالخصوص COP31 کے تناظر میں صحت مند اور عمر دوست شہروں کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون سے متعلق اپنی تجاویز پیش کریں گے۔
ڈاکٹر کمال آیدِن، جنہوں نے 1996ء میں پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، اس سال ڈی 8 ہیلتھ سمٹ 2026ء کے صدر اور کراچی ہیلتھ کیئر ایکسپو اینڈ کانفرنس کے اعزازی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔ اپنے پیغام میں انہوں نے پاکستان کو اپنا دوسرا وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعزازی مہمان کے طور پر مدعو ہونا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔انہوں نے کراچی ہیلتھ کیئر ایکسپو اینڈ کانفرنس کے منتظمین، بالخصوص تنویر عباس، ڈاکٹر عابد عباس شیخ اور پوری منتظمہ ٹیم کا کامیاب انتظامات پر شکریہ بھی ادا کیا۔سمٹ کے ساتھ 20 سے 27 جولائی 2026ء تک کراچی ڈی 8 ہیلتھ کیئر ویک بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے دوران صحت، عمر رسیدگی، جدت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق کانفرنسیں، علمی نشستیں، کاروباری ملاقاتیں (B2B) اور سماجی ذمے داری کے مختلف پروگرام منعقد ہوں گے۔
اس موقع پر اقوامِ متحدہ کی عالمی عمر رسیدگی اسمبلی کے قیام کی حمایت میں ایک بین الاقوامی دستخطی مہم شروع کی جائے گی، جبکہ گلوبل ہیلتھ اینڈ ایجنگ ایمبیسیڈرز پروگرام کا بھی باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔منتظمین کے مطابق ڈی 8 ہیلتھ سمٹ 2026ء رکن ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں سفارتی تعاون، تجربات اور مہارتوں کے تبادلے کو فروغ دینے اور صحت مند، عمر دوست اور پائیدار معاشروں کی تشکیل کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔