لاہور(نیٹ نیوز )ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ پانچ کپ بلیک کافی پینا دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار میں کیفین کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ نئی تحقیق معروف طبی جریدے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بغیر چینی، ذائقوں یا دودھ کے پی جانے والی بلیک کافی دل کی صحت کے لیے متعدد فوائد رکھتی ہے۔محققین کے مطابق انھیں دوران تحقیق یہ معلوم ہوا کہ ایسی بلیک کافی پینے والوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماری، فالج، ہارٹ فیل اور دل کی بے قاعدہ دھڑکن (اریتھمیا) کا خطرہ نسبتاً کم ہوا۔تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کیفین کی بہت زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال سے کافی پینا بہتر ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کافی کے حفاظتی اثرات کی ایک وجہ کافی کے دانوں میں پائے جانے والے سوزش کم کرنے والے مرکبات، جنہیں پولی فینولز کہا جاتا ہے، ہو سکتے ہیں۔اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور یہ مرکبات ماحول میں موجود نقصان دہ عناصر سے جسم کی حفاظت کرتے ہیں، خون کی نالیوں کی کارکردگی بہتر بناتے اور سوزش کو کم کرتے ہیں۔ سوزش کئی بڑی بیماریوں، بشمول کینسر کی ابتدائی وجہ سمجھی جاتی ہے۔محققین کے مطابق کیفین بھی اسی طرح کے فوائد فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے اثرات ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم، کیفین کی زیادہ مقدار دل کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اچانک بڑھ سکتا ہے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے اور بعض اوقات صحت مند بالغ افراد میں بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔