سعودی عرب نے 2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی سفارت خانہ بند کر دیا تھا اور اس کے سفارتی عملے کو واپس وطن بلا لیا تھا۔
تاہم، اب سعودی عرب نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے افغانستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کابل میں اپنا سفارتی مشن دوبارہ فعال کیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب افغان باشندوں کو سفارتی خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے مشن کو دوبارہ شروع کر رہا ہے۔سعودی سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز طالبان حکومت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے، جس نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سعودی عرب اور افغانستان کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
سعودی عرب نے افغان حکومت کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات بڑھانے کے حوالے سے اپنی پوزیشن کو مزید واضح کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی پیشرفت متوقع ہے۔یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیے جا رہے ہیں۔