پروٹوکول کی نااہلی یا میڈیا کی من مانی؟

یاور مہدی
سچ تو یہ ہے کہ بین الاقوامی سفارت کاری کے نازک میدان میں میزبان ملک کا تاثر صرف ٹھوس پالیسیوں سے نہیں بنتا، بلکہ تقریبات کے نظم، ضبط اور آداب سے بھی جھلکتا ہے۔ سول سیکرٹریٹ کے پروٹوکول ونگ اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں تین دہائیوں سے زائد خدمات کے دوران میں نے قریب سے دیکھا کہ پروٹوکول محض ضابطوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ریاست کی خودمختاری اور وقار کا عملی اظہار ہے۔ جب پاکستان عالمی رہنماؤں کی میزبانی کرتا ہے تو وہاں موجود ہر فرد خواہ وہ سرکاری عہدیدار ہو، معاون عملہ، میڈیا نمائندہ ہو یا کیمرہ مین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اقدار اور پیشہ ورانہ معیار کا علامتی سفیر ہوتا ہے۔
لباس محض جسم ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں، یہ سنجیدگی، تہذیب اور اپنی ثقافت سے وابستگی کا آئینہ بھی ہے۔ قومی سطح کی تقریبات میں رسمی لباس کی پابندی دراصل موقع کی نزاکت اور ریاستی وقار کے احترام کا دوسرا نام ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا کوریج کے دوران لباس اور اندازِ پیشکش کے حوالے سے جو بحث سامنے آئی، اس نے کئی سوالات اٹھا دیے۔ بنیادی سوال یہ ہے: کیا یہ انفرادی ترجیح کا معاملہ ہے یا ہمارے پروٹوکول سے متعلقہ اداروں کی نگرانی کا؟ کیمرے کی آنکھ اور غیر ملکی وفود صرف خبر نہیں دیکھتے، وہ میزبان قوم کے طرزِ عمل اور سماجی شائستگی کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر انفرادی طرزِ عمل سے ریاستی پروٹوکول متاثر ہو تو اس کا اثر براہِ راست ملکی امیج پر پڑتا ہے۔اس صورتحال کے تدارک کے لیے وزارتِ اطلاعات و نشریات اور وزارتِ خارجہ کی مشترکہ، فعال حکمتِ عملی وقت کی ضرورت ہے۔ وزارتِ خارجہ سفارتی پروٹوکول کے جامع قوانین اور وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ محض ایک مربوط مشترکہ اجلاس کے ذریعے ان قواعد کو میڈیا ایکریڈیشن کا لازمی حصہ بنایا جا سکتا ہے۔حرفِ آخر یہ ہے کہ..." پاکستانی صحافت کے نمائندوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قومی تشخص سے ہم آہنگ لباس اور رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ وزارتِ خارجہ کے پاس اس ضمن میں رہنمائی کا مینڈیٹ موجود ہے، مگر ذمہ داری صرف وفاق پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تمام صوبائی انتظامی سربراہان اور اداروں کے منتظمین کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پروٹوکول صرف خوش لباسی کا نام نہیں۔میرا مشورہ ہے کہ پروٹوکول افسران کی کارکردگی کا معیار محض ظاہری وضع قطع نہ ہو۔ اگر ہم ان سے "چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا" بننے کی توقع نہیں رکھتے تو کم از کم اپنے صوبے کی تاریخ اور حکومت کی بنیادی معلومات پر عبور لازم ہے، تاکہ وہ مہمانوں کو مستند معلومات فراہم کر سکیں۔ ساتھ ہی ان پروٹوکول افسروں کی تربیت اور ترقی کا ڈھانچہ مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (MPDD) اور S&GAD کے ذریعے PMS افسران کی طرز پر منظم کرنا چاھیے۔ انہیں ایئرپورٹ پر وی آئی پی گاڑی کی ترجیح اور پیشگی انتظامات کے علاوہ ایڈمنسٹریٹو امور کے ساتھ پڑھنے لکھنے اور کوئی دوسری زبان پر بھی عبور حاصل ہو۔ اگر ان اصولوں کو پیشہ ورانہ تربیت کا حصہ بنا دیا جائے تو ہم دنیا کے سامنے پاکستان کا ایسا باوقار عکس پیش کر سکتے ہیں جو محض 'وی آئی پی کلچر' نہیں، حقیقی تکریم کا مظہر 
ہو۔

یاد رہے، اصلاحِ احوال کا سفر جاری ہے، کیونکہ:  
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں  
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں