موبائل کے بغیر ایک شام

عروج سجاد
کیا ہم ابھی بھی ایک ساتھ بیٹھ کر بات کرتے ہیں؟
کچھ دن پہلے میں کام سے فارغ ہو کر گھر لوٹی تو شام کے وقت امی کے ساتھ چائے پینے بیٹھ گئی۔ اچانک فون پر نوٹیفکیشن آیا اور میں نے فون اٹھا لیا تو امی نے فوری کہا کہ بس دس منٹ کے لئے فون رکھ دو۔ یقین کریں کہ وہ دس منٹ پچھلے دس گھنٹے کے سکرول سے زیادہ بھاری تھے۔
ہم کب سے ایک ساتھ بیٹھنا بھول گئے۔ پہلے دستر خوان پر چار لوگ، چار پلیٹیں اور چار باتیں ہوتی تھیں۔ امی سالن کا پوچھتیں، ابا سیاست پر لیکچر دیتے اور ہم بہن بھائی آپس میں نوک جھوک کرتے۔ آج دستر خوان وہی ہے، لوگ وہیں ہیں پر ہاتھوں میں ایک اسکرین ہے جس میں چار لوگ ایک ہی کمرے میں بیٹھے چار مختلف دنیا میں ہیں۔
میں نے یہ محسوس کیا کہ وقت گزارنا اور وقت دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ میں اماں ابا کے پاس ہوتی ہوں مگر دھیان میرا نوٹیفکیشن کی طرف ہوتا ہے۔ وہ کوئی بات کر رہے ہوں اور میں ہاں ہاں میں سر ہلا رہی ہوتی ہوں جبکہ میرا دھیان کسی اور طرف جس سے بعض اوقات وہ چڑ بھی جاتے ہیں جو کہ ان کا حق بھی ہے۔
ہم نے بہت ترقی کر لی۔ ویڈیو کال پر پردیس رشتہ دار بھی نظر آجاتے ہیں،  کھانا آرڈر کرنا ایک کلک کا کام ہے۔ مگر جو چیز ہم نے کھو دی وہ ہے "خاموشی میں سکون " وہ پانچ منٹ جب کوئی کچھ نہ بولے اور بس چائے کی چسکیاں لیں اور وہ ہنسی جب کوئی پرانی بات یاد آجائے۔
سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی بری ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے مہمان بنایا تھا یا گھرکا فرد؟
آج کل ہر کوئی کوالٹی ٹائم کی بات کرتا ہے مگر کیا کوالٹی ٹائم ملے گا بغیر پلین کے، بغیر سٹوری لگانے کے، بغیر سنیپ بھیجے؟
میں یہ نہیں کہتی کہ موبائل پھینک دیں، میں خود اس کے بغیر نہیں رہ سکتی مگر ہفتے میں ایک بار ایک گھنٹہ نو فون زون کردیں۔ ساتھ بیٹھیں، کھانا ایک ساتھ کھائیں، باتیں کریں۔ شاید شروع میں عجیب لگے جیسے مجھے لگا تھا۔ ہاتھ بار بار فون کی طرف جائے گا مگر یہ وقت آپ کو بعد میں یاد آئے گا کہ ساتھ بیٹھنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔