پنجاب میں پانی کھڑا ہونے کے باوجودمتاثرین کی گھر وں کو واپسی شروع
نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، کئی دیہات زیر آب
لاہور، ملتان، جلال پور پیروالہ، بہاولپور، پتوکی (خصوصی رپورٹ) دریائے ستلج کے زمینی کٹائو سے بہاولنگر اور پاکپتن میں سیکڑوں مکانات دریا برد ہو گئے۔ جلالپور پیروالہ میں 2 خواتین اور کمسن بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ سیلاب کے باعث موٹروے ایم 5 اب تک 13 مقامات سے متاثر ہو چکی ہے، مزید 4 سے 5 پوائنٹس متاثر ہونے کا خدشہ ہے،لیاقت پور میں پانی موجود ہونے کے باوجود متاثرین کی گھر واپسی شروع ہو گئی، ادھر مختلف مقامات پر سیلابی پانی میں ڈوبنے والے مزید 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوگئیں۔ دوسری طرف دریائے سندھ میں نوشہرو فیروز کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو گیا، زمینداری بند ٹوٹنے سے بکھری شہر و درجن دیہات زیر آب آگئے جبکہ سیلابی پانی میں ڈوب کر ایک بچہ جاں بحق ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج نے پاکپتن کے گائوں باقرکے کا رخ کر لیا، زمینی کٹائو تیزی سے جاری ہے، درجنوں گھر دریا برد ہو گئے۔ گائوں کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے ضلعی انتظامیہ کا ہیوی مشینری کے ذریعے بند باندھنے کا عمل جاری ہے جبکہ ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالہ میں دریائے ستلج کا سیلابی پانی موٹروے ایم 5 کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ شہر کا مشرقی علاقہ تالاب میں تبدیل ہو چکا، متعدد علاقے تاحال سیلابی پانی کی لپیٹ میں ہیں جہاں متعدد عمارتیں گر رہی ہیں، راستے بند ہونے سے آمدورفت کیلئے کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔گزشتہ روز چک 81 ایم میں پانی اترنے پر 2 خواتین گھر واپس جاتے ہوئے ڈوب گئیں جبکہ چک 65 ایم کا نوجوان اویس گھلو اور بستی بھنڈا وینس کا 6 سالہ بچہ یعقوب وینس بھی ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان نے حفاظتی بند کی مرمت و مضبوطی اور موٹروے ایم 5 کی بحالی کیلئے جاری کام کا جائزہ لیا۔ دریں اثناء ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم فائیو تاحال بند ہے، ملتان سے سکھر متبادل راستے سے سفر کیا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں جلال پورپیروالا کے سیلاب متاثرہ علاقہ بستی موہانہ سندیلہ میں نصب واٹر سپلائی کرنے والی ٹربائنوں کی جانچ پڑتال کیلئے جانیوالی ٹریکٹر ٹرالی پھسل کر الٹ گئی،جس سے سب انجینئر محمد طارق، محمد اقبال سمیت 6 اہلکار و افسران سیلابی پانی میں گرگئے، تاہم میونسپل کمیٹی کیمذکورہ افسران و اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ادھر بہاولنگر کی بستی جانن والی اور گردونواح کے علاقے دریائے ستلج سے متاثر ہوئے جس کے باعث 50 سے زائد مکان دریا برد ہوگئے، 500 سے زائد مزید مکانوں کو خطرہ ہے۔ دوسری جانب بہاولپور میں باقر پور کے سیلاب متاثرین نے انتظامیہ پر ریلیف کیمپ خالی کرانے کا الزام لگایا اور احتجاج کیا تاہم ڈپٹی کمشنر نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صورتِ حال میں بہتری پر متاثرین کو جانے کا کہیں گے، نقصانات کے سروے کے دوران متاثرین کا گھروں اور علاقے میں ہونا ضروری ہے۔علاوہ ازیں احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف کے علاقوں شمس آباد، بھڈہ وینس، اسماعیل پور، جھانگڑہ شرقی، چناب رسول پور کی بستی چانڈیہ، بستی جلبانی کے مکانات مکمل طور پر گر گئے۔ رابطہ سڑکوں پر گہرے شگاف اور پانی کے باعث رابطے تاحال منقطع ہیں۔منچن آباد میں بابا فرید پل کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ لیاقت پور میں دریائے چناب اور سندھ کے ریلے سے گھر منہدم اور فصلیں تباہ ہو گئیں۔دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رابطہ سڑکوں کی بحالی کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کر دی۔ادھر مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں سیت پور کے قریب بریچنگ پوائنٹ پر ٹرانسپورٹیشن کے دوران توازن بگڑنے پر ریسکیو 1122 کی کشتی الٹنے سے جاں بحق 15 سالہ لڑکے دائم علی کی لاش بھی پانی سے نکال لی گئی، کشتی میں سوار 11 افراد کو زندہ بچا لیا تھا جبکہ پتوکی میں دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی کے مقام سے گزرنے والی نہروں سے تیسری لاش برآمد ہوگئی، ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے نامعلوم 40 سالہ شخص کی لاش کو سرائے مغل پولیس کے حوالے کر دی۔ چار روز قبل بھی دو لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ادھر پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث نقصانات کی ایک بار پھر رپورٹ جاری کر دی۔ ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق پنجاب کے 27 اضلاع، 4700 سے زائد دیہات، مجموعی طور پر 47 لاکھ 60 ہزار لوگ متاثر ہوئے۔ سیلاب میں پھنسنے والے 26 لاکھ 37 ہزار افراد اور 21 لاکھ 17 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ مختلف حادثات میں 131 شہری جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے۔ نقصانات کے تخمینہ کیلئے سروے کا آغاز 24 ستمبر سے ہو گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پنجاب کے متاثرہ علاقوں کیلئے مزید امدادی سامان روانہ کر دیا گیا، پی ڈی ایم اے پنجاب کو خانیوال کے متاثرین کیلئے ایک ہزار خیمے فراہم کئے گئے ہیں۔ اب تک فراہم کردہ 2270 ٹن امدادی سامان میں کمبل، خیمے، مچھر دانیاں، فولڈنگ بیڈ، پانی کے کین سمیت 17 کشتیاں بھی شامل ہیں۔ 36 ہزار خیمے بھی دیئے جا چکے ہیں۔دوسری طرف سندھ میں نوشہرو فیروز کچے میں دریائے سندھ کے ایک سو کلومیٹر علاقے میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کمال ڈیرو میں دریا کے زمینداری بند ٹوٹنے سے بکھری شہر زیر آب آگیا۔ درجنوں دیہات اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے امدادی کارروائی کی بجائے غائب ہیں۔ سوبھو ڈیرو کے کچے میں سیلابی پانی میں ڈوب کر یاسین ملاح نامی بچہ جاں بحق ہوگیا۔علاوہ ازیں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی گزشتہ روز کی طرح ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان ہے۔