سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ پیغام مغرب اورمشرق دونوں ایوانوں کیلئے ہے،یہ اعلان ہے اسرائیل کے قلعوں کیلئے،یہ تنبیہ ہے ان طاقتوں کیلئے جوسمجھتی تھیں کہ مسلم دنیاکبھی یکجا نہیں ہوسکتی۔آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ عالم اسلام بکھری ہوئی ریت نہیں بلکہ صحراؤں کی چٹان ہے۔اب کوئی طاقت اس وحدت کومحض وقتی شورسمجھ کرنظراندازنہیں کرسکتی۔ہم ایک ہیں،اورہماراارادہ ایک فولادہے ۔دنیاکے ایوانوں میں یہ صداپہنچ گئی ہے کہ امتِ مسلمہ بیدارہورہی ہے۔دنیا کے ایوانوں کوسن لیناچاہئے کہ امتِ مسلمہ بیدارہورہی ہے ۔مغرب کوسمجھ لیناچاہئے کہ وہ دورگزر گیا جب قومیں غلامی کے طوق پہنتی تھیں۔وہ وقت گزرگیاجب ہم غلامی کے طوق پہنے پھرتے تھے۔اب وہ لمحہ قریب ہے جب سورج مغرب سے نہیں بلکہ مشرق سے طلوع ہوگا۔
اب ہم وہی ہیں جنہوں نے کہاتھا:اللہ کیلئے انصاف پرقائم ہوجاؤ۔(النساء:135)
یہ معاہدہ ایک غیرمعمولی دفاعی بندوبست ہے،اورعالمی طاقتوں کیلئے ایک صریح پیغام کہ مسلم دنیااب بکھری نہیں بلکہ ایک نئی وحدت میں ڈھل رہی ہے۔
جب اسرائیل نے قطرپریلغارکی تومسلم دنیاکے اکثرممالک خاموش رہے،مگرپاکستان نے پہل کی۔یہ وہی جذبہ تھاجوبدرکے میدان میں مہاجروانصارنے دکھایاتھا:کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پراللہ کے حکم سے غالب آگئیں(البقرہ:249)۔پاکستان کی موجودگی نے عرب دنیاکویہ یقین دلایاکہ آج بھی بدرکے مجاہدزندہ ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ سپہ سالارکی موجودگی نے یہ تاثردیاکہ پاکستان اب محض سیاسی تماشائی نہیں بلکہ عملی محافظ اورعملی مجاہد بھی ہیں۔پاکستانی سپہ سالارکی موجودگی نے واضح کردیاکہ یہ محض سفارتی ہمدردی نہیں،بلکہ ایک عملی عزم ہے۔یہی وہ لمحہ تھا جب عرب دلوں میں یہ یقین بیٹھ گیاکہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں،بلکہ ایک حفاظت کاسایہ ہے۔عرب دنیاکے دلوں نے محسوس کیا کہ پاکستان ان کیلئے صرف لفظوں کاہمدردنہیں بلکہ میدان کاساتھی ہے۔
اسرائیل کے حملے کے بعدجب اکثرتخت خاموش تھے،پاکستان سب سے پہلے دوحہ پہنچا۔وزیراعظم کے ساتھ سپہ سالارکی موجودگی نے یہ اعلان کیاکہ ہم صرف ہمدردنہیں،محافظ بھی ہیں۔یہ منظربدرکے غازیوں کی یاددلاتاہے۔دوحہ میں ہونے والی حالیہ عرب کانفرنس میں یہ حقیقت کھل کرسامنے آئی کہ عرب دنیااپنی عسکری اوردفاعی ضرورتوں کیلئے سب سے بڑھ کرپاکستان پراعتمادکررہی ہے۔گویااب اسلامی نیشنل گارڈکی حیثیت پاکستان کودی جارہی ہے۔
دوحہ کانفرنس میں عرب دنیاکی نگاہیں جس طرف اٹھیں،وہ پاکستان تھا۔گویاعالمِ اسلام نے کہہ دیاہمارامحافظ،ہمارابھائی،ہماراقلعہ،ہمارا محورپاکستان ہے۔دوحہ کانفرنس میں جب سب نگاہیں پاکستان پرٹک گئیں تووہ لمحہ دراصل تاریخ کافیصلہ کن موڑتھا۔گویاامت نے کہہ دیاکہ ہماری تلوارپاکستان ہے،ہماراقلعہ پاکستان ہے۔دوحہ کانفرنس کے بعدعرب دنیا نے جس اعتمادکااظہارکیاہے،وہ ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتاہے۔اب اسرائیل کے مقابلے میں عرب دنیانے جس ملک پرسب سے زیادہ بھروسہ جمایاہے،وہ پاکستان ہے۔
سعودی عرب کی راہ پرچلتے ہوئے یہ امکان قوی ہے کہ مصر،امارات،اوردیگرخلیجی ریاستیں بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پرآمادہ ہوجائیں۔یہ وہ لہرہے جوطوفان کی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔ممکن ہے کہ کل یہ لہرایک ایسی فوجی وحدت میں ڈھل جائے جس کانام تاریخ اسلامی نیٹورکھے۔اہلِ عرب اب اس خواہش میں ہیں کہ یہ معاہدے صرف سعودی عرب تک محدودنہ رہیں بلکہ پورے عالمِ عرب کواپنے حصارمیں لے لیں۔یہ وہی خواب ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی نے دیکھاتھا،اورآج اس خواب کی کرنیںاسلام آبادسے نکل رہی ہیں۔وزیراعظم اورسپہ سالارکے ریاض میں شانداراستقبال کے بعدعرب دنیامیں یہ تاثرگہراہواہے کہ اب دیگرممالک بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں کے خواہاں ہیں۔
اہلِ نظریہ سوال اب وقت کی عدالت میں کھڑاہے کہ امریکاکیاکرے گا؟یورپ کیاسوچے گا؟امریکا،یورپ اوراسرائیل اس ابھرتے اتحاد کوکس نظرسے دیکھیں گے؟کیاوہ اس کے سامنے بندباندھنے کی کوشش کریں گے یاحالات کی سچائی کوتسلیم کرتے ہوئے اپنے رویے میں نرمی لائیں گے؟اسرائیل کس چال کی تیاری کرے گا؟کیاوہ خاموش بیٹھیں گے یاسازشوں کے جال پھیلائیں گے؟امکان یہی ہے کہ وہ اس اتحادکوایک نیاخطرہ سمجھیں گے،اوربالواسطہ دبایاسازشوں کاسہارالیں گے لیکن یادرکھوجب ایک قوم بیدارہوجائے تو دنیاکی بڑی بڑی سازشیں تنکوں کی طرح بکھرجاتی ہیں۔یقیناامریکااوراسرائیل اسے اپنے لئے خطرہ سمجھیں،لیکن ہم کہتے ہیں:
ہمت نہ ہارو،غم نہ کرو،تم ہی غالب رہوگے اگرایمان رکھتے ہو۔ (العمران:139)
اب سوال یہ ہے کہ عالم اسلام کے اس اعتمادکے جواب میں دنیاکی متحارب قوتیں کیالائحہ عمل اختیارکریں گی؟کیامغرب کویہ نئی صف بندی ایک چیلنج کے طورپردکھائی دے گی یاوہ محض تماشائی کاکرداراداکرے گا؟امریکا،یورپ اوراسرائیل اسے اپنے لئے خطرہ سمجھیں گے۔مگرہم قرآن کی آوازپریقین رکھتے ہیں
اگراللہ تمہاری مددکرے توتم پرکوئی غالب نہیں آسکتا۔(العمران:160)
یہ کوئی دعویٰ نہیں،یہ تاریخ کی شہادت ہے کہ پاکستان نے جب بھی میدانِ جنگ میں قدم رکھا،دشمن کوچاروں شانے چت کردیا۔ بھارت کوبارہااس تلخ حقیقت کاسامناہواکہ پاکستان محض دفاعی قلعہ نہیں بلکہ حملہ آورتلواربھی ہے۔پاکستان نے اپنی تاریخ میں بارہایہ ثابت کیاہے کہ اس کے پاس محض دفاع کی نہیں بلکہ جارح دشمن کوپچھاڑنے کی قوت بھی موجودہے۔پاک-بھارت جنگوں میں دنیانے دیکھاکہ کس طرح ایک نسبتاچھوٹاملک ایک بڑے ملک کومیدانِ جنگ میں چاروں شانے چت کردیتاہے۔یہ ماضی کاتجربہ مستقبل کے اعتمادکی اساس ہے۔
پاکستان کی تاریخ چیخ چیخ کرگواہی دیتی ہے کہ یہ قوم جب بھی میدان میں اتری،دشمن کوچاروں شانے چت کرکے دکھایا۔پاک-بھارت جنگیں اس کاروشن ثبوت ہیں۔پاک - بھارت جنگیں اس بات کی گواہی ہیں کہ یہ قوم ایمان، تقویٰ اورجہادفی سبیل اللہ کے اصول پرقائم ہے۔ یہ وہی قوم ہے جس نے بڑے بڑے ہاتھیوں کواپنی چھوٹی چھوٹی غلیلوں سے پچھاڑدیا۔اقوامِ عالم کیلئے یہ کوئی رازنہیں رہاکہ پاکستان اپنے دشمن کوپے درپے شکست دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔ماضی کی جنگوں میں بھارت کوچاروں شانے چت کرکے پاکستان نے دنیا کوباورکرادیاتھاکہ یہ قوم محض دفاع ہی نہیں،فتح کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
ایس سی اواجلاس میں پاکستان،چین،روس اورشمالی کوریاکی مشترکہ وکٹری پریڈدراصل ایک نئے عالمی بلاک کی نشاندہی ہے۔یہ پیغام ہے کہ اب عالمی سیاست میں صرف واشنگٹن اورنیٹوہی نہیں،بلکہ ایشیائی اتحادبھی ایک ناقابلِ نظاندازقوت کے طورپرابھررہا ہے۔پاکستان،چین،روس اورشمالی کوریاکی مشترکہ وکٹری پریڈنے خطے میں ایک نئے اتحادکاپرچم لہرایاہے۔یہ منظرمحض عسکری قوت کامظاہرہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست میں مشرق کے ابھرتے ہوئے محورکااعلان ہے۔پاکستان،چین،روس اورشمالی کوریاایک ساتھ ایک ہی پریڈمیں کھڑے ہوئے تودنیانے محسوس کیاکہ یہ مشرقی اتحادکی ابتدائی تصویر ہے۔ایک ساتھ کھڑاہونامشرقی اتحادکی ابتداہے۔یہ منظرتاریخ کوبتارہاہے کہ طاقت کانیامحورمشرق ہے۔یہ وہ لمحہ تھاجب طاقت کانیا مرکزنمودارہوا۔ان ممالک کاایک ساتھ کھڑاہونا دراصل اس آیت کی تعبیرہے:اللہ کی رسی کوسب مل کرمضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔عمران:103
یہی رسی آج مشرقی بلاک کو ایک ساتھ جوڑ رہی ہے۔(جاری ہے)