میکرون نے فرانس کے احتجاج پر ٹرمپ کے ریمارکس کو احمقانہ قرار دے دیا

میکرون نے فرانس کے احتجاج پر ٹرمپ کے ریمارکس کو احمقانہ قرار دے دیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس میں حالیہ احتجاج اور بدامنی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں ’’احمقانہ اور ناقابلِ قبول‘‘ قرار دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میکرون نے قطر کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض غیر ملکی رہنما فرانس کی اندرونی صورتحال کو اپنے سیاسی مقاصد اور انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میکرون کا اشارہ ٹرمپ کی جانب تھا؟

رپورٹس کے مطابق فرانسیسی صدر نے ابتدا میں براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا، تاہم جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کا اشارہ امریکی صدر کی جانب ہے تو میکرون نے جواب دیا کہ دوسروں کے علاوہ، ہاں۔ٹرمپ سمیت بعض عالمی رہنماؤں نے فرانس میں ہونے والے احتجاج اور ہنگاموں کو امیگریشن کے مسئلے سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تارکینِ وطن کی آمد کے باعث ملک میں صورتحال خراب ہوئی ہے۔ ان رہنماؤں نے فرانسیسی حکومت کو سرحدیں بند کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔

امیگریشن اور اسلام پسندوں سے متعلق دعوے مسترد

فرانسیسی صدر نے فرانس پر تارکینِ وطن اور اسلام پسندوں کے ’’جتھوں‘‘ کے قبضے سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتے۔میکرون کے مطابق فرانس کی صورتحال کو سیاسی مقاصد کے لیے پیش کرنا اور ملک کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کرنا قابلِ قبول نہیں۔

مصنوعی ذہانت سے تیار جعلی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر پھیلیں

میکرون نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ جعلی تصاویر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بعض تصاویر میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو حقیقت میں فرانس میں پیش نہیں آئے۔فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی جعلی تصاویر اور غلط معلومات نے فرانس میں احتجاج کے حوالے سے غیر ملکی رہنماؤں کے گمراہ کن تبصروں کو مزید تقویت دی۔

فرانس میں تشدد اور لوٹ مار روکنے کا عزم

میکرون نے واضح کیا کہ حکومت آئندہ مظاہروں کے دوران تشدد اور لوٹ مار کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے اور مزید بدامنی کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔رپورٹس کے مطابق حکام نے بعض علاقوں میں کرفیو اور اجتماعات پر پابندی جیسے اقدامات بھی کیے ہیں، تاہم میکرون نے فی الحال ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کو ضروری قرار نہیں دیا۔