پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے پنجاب میں اہم راستے اور موٹروے بند

پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے پنجاب میں اہم راستے اور موٹروے بند

ویب ڈیسک:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے بلا اجازت احتجاج کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت اور پنجاب انتظامیہ نے مؤثر اقدامات کیے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

جی ٹی روڈ پر بندشیں: پنجاب میں وزیر آباد کے قریب دریائے چناب کے پل کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف جانے سے روکنا ہے۔ یہ فیصلہ احتجاج کی تیاریوں کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
بس اڈوں اور انٹر سٹی ٹرمینلز کی بندش: انتظامیہ نے تمام بس اڈوں اور انٹر سٹی بس ٹرمینلز کو ہدایت دی ہے کہ وہ آج رات 8 بجے سے اپنے آپریشنز بند کر دیں تاکہ احتجاجی افراد کو دارالحکومت پہنچنے سے روکا جا سکے۔ اس کے ذریعے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے اسلام آباد جانے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
موٹروے کی بندش: وفاقی حکومت نے لاہور سے اسلام آباد اور لاہور سے ملتان کی موٹروے کو دو روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد پی ٹی آئی کے احتجاج کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنا ہے۔ لاہور سے بابو صابو، ٹھوکر، شرقپور انٹرچینج اور کالاشاہ کاکوا انٹرچینج بند کیے جائیں گے، اور لاہور سے ملتان کی موٹروے بھی دو دن کے لیے بند رہے گی۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد: اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 24 نومبر کو ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامیہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ وزارت داخلہ نے اس پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے اور اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رینجرز اور ایف سی کو طلب کر لیا ہے، جو وفاقی پولیس کے ساتھ مل کر سڑکوں پر موجود ہوں گے۔
پنجاب حکومت کی کارروائیاں: پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف جانے سے روکنے کے لیے جی ٹی روڈ اور دیگر اہم راستوں پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کسی کو بھی اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور یہ واضح کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج پنجاب سے اسلام آباد تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ان تمام اقدامات کا مقصد 24 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کو روکنا اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔