"لاہور میں سموگ کا حملہ، فضائی آلودگی کی شرح خطرناک سطح تک پہنچ گئی"

ویب ڈیسک:موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی لاہور میں سموگ کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر کی فضاء ایک بار پھر انتہائی مضر صحت قرار دی گئی ہے۔

 سموگ کے اس عفریت نے لاہور کو ایک مرتبہ پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل کر دیا ہے۔ لاہور کی فضائی آلودگی کی مجموعی شرح 499 ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔اس وقت لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ کینٹ کے علاقے میں آلودگی کی شرح 814 تک پہنچ چکی ہے، جو کہ انتہائی خطرناک سطح پر ہے۔ سی ای آر پی آفس کے ارد گرد آلودگی کی شرح 736 ریکارڈ کی گئی، جبکہ سید مراتب علی روڈ پر 649، غازی روڈ انٹر چینج پر 553، ویلنشیا ٹاؤن میں 551 اور یو ایس قونصلیٹ کے قریب آلودگی کی شرح 529 تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ آلودگی کی شدت ممکنہ طور پر موسم کی تبدیلی اور دھند کی وجہ سے ہے۔ سموگ میں آلودہ ذرات کی موجودگی نہ صرف سانس کی بیماریوں کو بڑھاتی ہے بلکہ دل اور دیگر اعضا کی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے، جن میں کم سے کم باہر نکلنا، ماسک کا استعمال، اور اگر ممکن ہو تو ہوا صاف کرنے والے آلات کا استعمال شامل ہیں۔ ان تدابیر سے نہ صرف شہری اپنی صحت کو بچا سکتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی کی سطح کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔