پاکستان کا آم ایکسپورٹ ہدف 25 ہزار ٹن بڑھا دیا گیا

پاکستان کا آم ایکسپورٹ ہدف 25 ہزار ٹن بڑھا دیا گیا

کراچی (ویب ڈیسک): پاکستان نے آم کی برآمدات کے ہدف میں 25 ہزار ٹن کا اضافہ کرتے ہوئے رواں سیزن میں ایک لاکھ پچیس ہزار (1,25,000) ٹن آم برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اس فیصلے سے ملک کو تقریباً 10 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایسوسی ایشن (PFVA) کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق، گزشتہ سیزن ایک لاکھ ٹن آم برآمد کیا گیا تھا جبکہ موجودہ سیزن کا آغاز 25 مئی سے ہوگا۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کا اثر
وحید احمد نے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں، درجہ حرارت میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ اور پانی کی قلت کے باعث آم کی مجموعی پیداوار میں 20 فیصد کمی متوقع ہے۔ اندازہ ہے کہ اس سال 14 لاکھ 40 ہزار ٹن آم پیدا ہوں گے۔

نئی منڈیاں اور عالمی توجہ
رواں سیزن میں جنوبی افریقہ کی ایک نئی منڈی پاکستان کے لیے دستیاب ہونے کا امکان ہے۔ جنوبی افریقہ کے قرنطینہ ماہرین کا ایک وفد بھی اس سیزن میں پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ آم کے برآمدی معیار کا جائزہ لے سکیں۔PFVA کے مطابق، چین اور ترکی کی منڈیوں پر خاص توجہ دی جائے گی، جب کہ جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں پاکستانی آم کی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

حکومتی اقدامات کی ضرورت
وحید احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے غیر منصفانہ فریٹ چارجز کی وصولی کا نوٹس لے، کیونکہ یہ آم کے برآمدی اخراجات میں غیر ضروری اضافہ کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی اقسام (ورائٹیز) کی کاشت اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت اور زرعی معیشت کو طویل مدت تک مستحکم رکھا جا سکے۔