چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نروزی خان بڑیچ نے سنجیدی ڈیگاری میں مرد و خاتون کے بےرحمانہ قتل کے کیس پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے صوبے کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو طلب کرلیا۔
کوئٹہ میں چیف جسٹس کے روبرو ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی پولیس پیش ہوئے اور کیس میں ہونے والی اب تک کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی۔چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ سنجیدی ڈیگاری میں فائرنگ سے ایک مرد و خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل شدید تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر نہ صرف قتل کے مقام کا سراغ لگایا بلکہ مقتولین کی قبریں بھی شناخت کیں۔ایس پی سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ اور تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خاتون کی قبر کشائی جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں کی گئی تاکہ قانونی شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔ اب تک 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں وہ شخص بھی شامل ہے جس نے خاتون پر فائرنگ کی تھی۔
پولیس کی رپورٹ کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ مقدمہ حنا اورک پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا، خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی جبکہ مقتول مرد کے بھی بچے تھے۔چیف جسٹس نے تفتیش میں مزید شفافیت اور پیش رفت کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس سنگین جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔