لندن یونیورسٹی کی لاہور میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کی مفاہمت

لندن یونیورسٹی کی لاہور میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کی مفاہمت

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے پیش کی گئی پیشکش کے بعد لاہور میں لندن یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے پر مفاہمت کی گئی ہے۔

یہ اقدام پنجاب کے طلباء اور طالبات کے لیے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر معروف لندن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر سکیں۔مریم نواز شریف نے اس منصوبے کے تحت پنجاب میں بین الاقوامی سطح کی تعلیم کی فراہمی کا عزم کیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی دیگر بین الاقوامی یونیورسٹیوں کو بھی پنجاب میں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعلیٰ نے سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کو لندن یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سمسٹر ایکسچینج پروگرام شروع کیا جائے اور یونیورسٹی آف لندن پنجاب میں اپنا دفتر کھولے۔مریم اورنگزیب نے اس ملاقات میں بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے ذہین طلباء کے لیے 50,000 وظائف فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ شفاف نظام کے ذریعے دئیے جائیں گے۔

ان وظائف کا 60 فیصد حصہ بچیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جو کہ وزیراعلیٰ کی تعلیم کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا اور انہیں جدید تعلیم کی فراہمی ہے۔سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق نصاب کی بہتری، اساتذہ کی ٹریننگ، اور تعلیمی عمارتوں کی مرمت پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مری میں نیشنل یونیورسٹی کے قیام پر بھی کام جاری ہے تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بڑھایا جا سکے۔پروفیسر وینڈی تھامسن نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی تعلیمی اصلاحات کو سراہا اور کہا کہ پنجاب میں تعلیم اور گورننس کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات متاثر کن ہیں۔ لندن یونیورسٹی برطانیہ کے علاوہ 199 ممالک میں تعلیمی خدمات فراہم کر رہی ہے، اور اس تعاون سے پنجاب کے طلباء کو عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔