برطانیہ میں چوری کی وارداتوں کے سیکڑوں ہزاروں کیسز حل نہ ہوسکے

برطانیہ میں چوری کی وارداتوں کے سیکڑوں ہزاروں کیسز حل نہ ہوسکے

برطانیہ میں دکانوں میں چوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، جہاں ہزاروں کیسز بغیر کسی پیشرفت کے بند کردیے گئے۔

اہم اعداد و شمار:
ستمبر 2024 کے اختتام تک انگلینڈ اور ویلز میں 269,237 دکانوں میں چوری کے کیسز بغیر کسی مشتبہ شخص کی شناخت کے بند کردیے گئے۔یہ تعداد تمام درج شدہ کیسز کا 55 فیصد بنتی ہے، یعنی ہر دو میں سے ایک کیس حل نہ ہوسکا۔صرف 88,165 کیسز میں ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی یا انہیں طلب کیا گیا، جو کہ کل کیسز کا صرف 18 فیصد ہے۔مجموعی طور پر چوری کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پولیس کارکردگی:
میٹروپولیٹن پولیس کی کارکردگی سب سے خراب رہی، جہاں 75 فیصد کیسز حل نہ ہوسکے۔اس کے تحت مجموعی طور پر 59,133 کیسز بغیر کسی مشتبہ شخص کی شناخت کے بند ہوگئے۔
بیڈفورڈ شائر اور ہرٹفورڈ شائر پولیس کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی، جہاں 66 فیصد کیسز بغیر کسی نتیجے کے بند کیے گئے۔
حکومت اور پولیس پر تنقید:
لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیونٹی پولیسنگ کو بہتر بنائے تاکہ پولیس افسران عوام کے درمیان متحرک اور قابلِ اعتماد نظر آئیں۔ ان کے مطابق، موجودہ سسٹم میں پولیس کی عدم موجودگی کے باعث جرائم پیشہ افراد بلاخوف چوریوں میں ملوث ہورہے ہیں۔دکانوں میں چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات نے کاروباری برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے، اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔