کراچی(سپورٹس ڈسک)پاکستان کو وکٹ کیپنگ میں نئے ا?پشنز کی تلاش ہے، روحیل نذیر سمیت کراچی کے سعد بیگ اور غازی غوری سلیکٹرز کی نظروں میں ہیں۔تفصیلات کے مطابق ان دنوں ٹی ٹوئنٹی میں عثمان خان وکٹ کیپنگ کر رہے ہیں، ان کی کارکردگی کو بہتر قرار دیا جا چکا ہے البتہ ابھی مزید ا?پشنز کی تلاش جاری ہے، 3 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ملک کی نمائندگی کرنے والے روحیل نذیر سمیت کراچی کے سعد بیگ اور غازی غوری سلیکٹرز کی نظروں میں ہیں۔پاکستانی کرکٹ تھنک ٹینک کی کوشش ہے کہ 6،7 ماہ میں اسٹار پلیئرز کا بیک اپ تیار کیا جائے، ذرائع نے بتایا کہ پہلے بینچ اسٹرینتھ پر اتنا کام نہیں کیا گیا جس سے مسائل سامنے ا?ئے، جب نئے ٹیلنٹ کی سپلائی بند ہوئی تو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔اب کوشش ہے کہ اتنے کھلاڑی سسٹم میں موجود ہوں کہ 2 سے 3 ٹیمیں بن سکیں، اگر کوئی کھلاڑی انجری یا کسی اور وجہ سے دستیاب نہ رہے تو اس کی جگہ سنبھالنے کیلیے مناسب متبادل موجود ہو۔ذرائع نے بتایا کہ علی رضا کی کارکردگی نکھارنے کیلیے ان دنوں خاصی کوشش ہو رہی ہے، 17 سالہ پیسر کے بارے میں تھنک ٹینک کا خیال ہے کہ اگر وہ اپنی راہ سے نہ بھٹکے تو پاکستان کرکٹ کے اگلے سپر اسٹار بن سکتے ہیں۔ انہیں اسی سوچ کے ساتھ کھیلنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب پیچھے مڑ کر نہ دیکھو، احمد دانیال سے بھی امیدیں وابستہ کر لی گئی ہیں۔اسپن ٹیلنٹ کی بھرمار پر حکام مسرور دکھائی دیتے ہیں، ابرار احمد اور سفیان مقیم کے ساتھ صائم ایوب بھی بہتر بولنگ کر رہے ہیں، شاداب خان کی واپسی سے مقابلے کی فضا مزید بڑھ جائے گی، پی سی بی شاہینز ٹیم کو بھی مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، کوچز سے کہا گیا ہے کہ ملتان، فیصل ا?باد، پشاور، ایبٹ ا?باد اور مظفر ا?باد جہاں بھی کوئی ٹیلنٹ نظر ا?ئے اسے مزید نکھارنے کیلیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لے کر ا?ئیں۔