لاہور (کرائم رپورٹر) چوہنگ ٹریننگ کالج میں مبینہ طور پر 20 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور خردبرد کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، جس میں متعدد افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق 16 کروڑ 90 لاکھ روپے تربیتی فیس، پیرا اور کسٹم کی مد میں جبکہ 3 کروڑ 10 لاکھ روپے کھانے اور کینٹین کی آمدن کی مد میں مبینہ طور پر خردبرد کیے گئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسٹیشنری اور کمپیوٹر اسٹیشنری کی مد میں 31 لاکھ روپے جبکہ فرنیچر اور مشینری کی مد میں 90 لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق چائے اور کافی کی مد میں اڑھائی لاکھ روپے، ٹرانسپورٹ کی مد میں 27 لاکھ روپے جبکہ بلڈنگز کی مد میں 10 لاکھ روپے کی مبینہ خردبرد کی گئی۔ انکوائری کمیٹی نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر ٹھیکیدار یاسر ایوب اور اکائونٹنٹ شہباز خالد کے خلاف فوجداری کارروائی کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں سنگین بدانتظامی کے الزامات پر ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ، ڈی ایس پی شاہد جاوید اور اکائونٹنٹ خالد کے خلاف محکمانہ انکوائری کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح بوگس بلوں پر دستخط اور مبینہ جعلی اندراجات کے معاملے پر انسپکٹر محمد اصغر، مخدوم حسین، اشفاق احمد، شوکت علی، سب انسپکٹر اسرا حمد اور خالد عثمان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ انکوائری کے دوران ایڈمن، اسٹور انچارج، بلڈنگز اور اسٹیشنری کلرک سمیت دیگر ماتحت افسران بھی متعلقہ عہدوں پر تعینات رہے۔ انکوائری رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹھیکیدار یاسر ایوب مبینہ طور پر ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ کے فرنٹ مین کے طور پر ٹریننگ کالج کے معاملات چلا رہا تھا اور ادارے کو ذاتی کاروبار کی طرح استعمال کیا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق تمام کوائف مبینہ طور پر جعلی تیار کرکے بلز کی منظوری اور رقم ریلیز کروائی جاتی رہی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹھیکیدار یاسر ایوب مبینہ طور پر اپنی قائم کردہ چھ مختلف کمپنیوں کے نام سے بل تیار کروا کر ادائیگیاں حاصل کرتا رہا۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق ڈی ایس پی شاہد جاوید بھی کمانڈنٹ کے مبینہ غیر قانونی احکامات کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے ان پر بلا روک ٹوک عملدرآمد کرواتے رہے۔ انکوائری رپورٹ میں سامنے آنے والے الزامات اور سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ کو او ایس ڈی جبکہ ڈی ایس پی شاہد جاوید کو معطل کردیا ہے۔ رپورٹ میں مالی معاملات، جعلی بلوں، مبینہ بوگس اندراجات اور انتظامی بے ضابطگیوں کی مزید قانونی و محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔