ہائیکورٹ : قیام پاکستان سے پہلے کا جائیداد کا تنازع حل

جسٹس خالد اسحاق نے جمشید سمیت دیگر کی اپیل پر 29 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا
 لاہور(یواین پی) لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے شروع ہونے والا جائیداد کا تنازع حل کرتے ہوئے بہن کی اولاد کو جائیداد میں حصہ دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ غفوراں بی بی اپنی زندگی میں کبھی عدالت نہیں گئیں اور ان کی وفات کے بعد اولاد نے 21 برس تک خاموشی اختیار کیے رکھی، اچانک 2009 میں 1952 کے معاہدے کے خلاف دعویٰ دائر کردیا جو قانون کے مطابق قابل سماعت نہیں تھا۔جسٹس خالد اسحاق نے جمشید سمیت دیگر کی اپیل پر 29 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ 1945 میں کریم بخش کی بھارت کے موضع براس میں زمین تھی، قیام پاکستان سے پہلے کریم بخش کا انتقال  ہوچکا تھا، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پاکستان ہجرت کر کے آئے، کریم بخش کی جائیداد بڑے بیٹے عبدالغفور کے نام ہوئی لیکن وہ قیام پاکستان کے وقت ہی جاں بحق ہو گئے۔ غفوراں بی بی کی اولاد نے پہلی بار 2009 میں دعویٰ دائر کیا جو ٹرائل کورٹ نے 2013 میں خارج کردیا، بعدازاں اپیلٹ کورٹ نے یہ دعویٰ منظور کرتے ہوئے بہن کی اولاد کے حق میں فیصلہ دیا۔