امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر سزائے موت کی منتظر 8 خواتین کو رہا کرے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے مثبت فضا قائم ہو سکے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ خواتین رواں سال کے آغاز میں ایران بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد گرفتار کی گئی تھیں۔ ان میں ایک 16 سالہ لڑکی اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جن خواتین کے نام سامنے آئے ہیں ان میں بیتا ہمتی، ڈیانا طاہرآبادی، محبوبہ شعبانی، وینس حسینی نژاد، گلناز نراقی، غزال غلندری، پناہ موحدی اور انسیہ نجاتی شامل ہیں، تاہم بعض ناموں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بیتا ہمتی پر دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار استعمال کرنے، احتجاج میں حصہ لینے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔اسی طرح 16 سالہ ڈیانا طاہرآبادی پر “خدا کے خلاف جنگ” (محاربہ) کا الزام لگایا گیا ہے، جو ایران میں سزائے موت کا جرم ہے۔ محبوبہ شعبانی پر زخمی مظاہرین کی مدد کرنے کا الزام ہے جبکہ وینس حسینی نژاد کو مبینہ طور پر سرکاری ٹی وی پر اعتراف جرم پر مجبور کیا گیا۔
ڈاکٹر گلناز نراقی کے حوالے سے بھی الزام ہے کہ انہیں زبردستی اعترافی بیان پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف مقدمات میں شفافیت کی کمی ہے اور جبری اعترافات جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق جنوری کے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد کو سخت سزائیں سنائی گئیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔