واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایک امریکی شہری، جسے ان کے مطابق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں 2024 میں حراست میں لیا گیا تھا، اب ایران سے بحفاظت باہر آ چکا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ مذکورہ امریکی شہری محفوظ مقام پر پہنچ گیا ہے اور اس کی صحت بھی بہتر ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے یہ اقدام ایک مثبت اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر رکھی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں آبنائے ہرمز، خلیجی خطے اور دیگر اہم مقامات پر سکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی مزید کشیدگی کے علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی شہری کی رہائی سفارتی رابطوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہو سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان موجود بڑے اختلافات اور جاری فوجی کشیدگی کے باعث مستقل بہتری کے امکانات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران محدود نوعیت کے ایسے اقدامات جاری رکھتے ہیں تو یہ مستقبل میں مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم خطے کی صورتحال میں کسی بھی وقت تبدیلی کا امکان موجود ہے۔