ہیٹی کے سابق صدر جووینیل موئس کے قتل کیس میں گرفتار 18 مشتبہ افراد کو ہیٹی سے امریکا منتقل کردیا گیا ہے، جہاں انہیں قتل کی سازش اور دیگر وفاقی الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق ملزمان کو 20 ستمبر 2026 کو امریکی فوجی طیارے کے ذریعے فلوریڈا منتقل کیا گیا۔امریکی حکام کے مطابق امریکا منتقل کیے جانے والے 18 افراد میں 17 کولمبین سابق فوجی اور ہیٹی کی وزارتِ انصاف سے وابستہ سابق اہلکار جوزف بادیو شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو جنوبی فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔جووینیل موئس کو 7 جولائی 2021 کو دارالحکومت پورٹ او پرنس میں واقع ان کی نجی رہائش گاہ پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ حملے میں ان کی اہلیہ بھی زخمی ہوئی تھیں۔ اس قتل کے بعد ہیٹی میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی جبکہ کیس کی تحقیقات مختلف مراحل سے گزرتی رہیں۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق موئس کے قتل سے متعلق کیس میں اب تک 30 افراد پر فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے۔ مئی 2026 میں میامی کی وفاقی جیوری نے چار افراد کو سابق ہیٹی صدر کو قتل کرنے کی سازش سمیت مختلف الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موئس کے قتل کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، سہولت کاری اور اس پر عمل درآمد میں ملوث تمام افراد تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔
حکام کے مطابق 18 ملزمان کی امریکا منتقلی اسی قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔ہیٹی میں اس مقدمے کی پیش رفت طویل عرصے سے مشکلات کا شکار رہی ہے۔ ملک میں گینگ تشدد، عدالتی نظام پر دباؤ، عدالتوں کی سکیورٹی کے مسائل اور ججوں کو لاحق خطرات کے باعث کیس کی کارروائی آگے بڑھانے میں رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔ ہیٹی حکومت نے ملزمان کو امریکی حکام کے حوالے کرنے کی تصدیق بھی کی ہے۔18 ملزمان کی امریکا منتقلی کے بعد اب کیس کی اہم کارروائی امریکی ریاست فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں ہوگی، جہاں ملزمان کو اپنے خلاف عائد الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزمان کو قانونی طور پر بے گناہ تصور کیا جائے گا۔