پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف جاری گرفتاریوں اور صوبے کی بدلتی سیاسی صورتحال کے پیش نظر خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس آج شام 7 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اسپیکر بابر سلیم سواتی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 21 ستمبر کو شام 7 بجے طلب کیا ہے۔ اجلاس پہلے 5 اکتوبر کو ہونا تھا، تاہم اسے ایک روز کے نوٹس پر قبل از وقت طلب کیا گیا۔ اسمبلی کی جانب سے اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج اور مارچ کی کال دی گئی ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ لاہور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے ان اقدامات کی بنیاد عوامی نظم و امن سے متعلق خدشات کو قرار دیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، پی ٹی آئی ارکان کی گرفتاریوں اور صوبے سے متعلق دیگر معاملات پر ارکان کی جانب سے مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مالاکنڈ میں صوبائی وزیر شکیل خان سے متعلق فائرنگ کے واقعے نے بھی صوبے کی سیاسی صورتحال میں مزید اہمیت حاصل کرلی ہے۔ مختلف رپورٹس میں واقعے کے حوالے سے شکیل خان اور ان کے سکیورٹی گارڈز پر الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ واقعے میں دو لیویز اہلکاروں کے زخمی ہونے اور مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش کے بعد ہوگا۔اس سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق لاہور میں پیش آنے والے واقعے پر بھی حکومت پنجاب اور پولیس کے خلاف قرارداد منظور کی جاچکی ہے، جس سے صوبائی اور وفاقی سطح پر جاری سیاسی کشیدگی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
آج ہونے والے اجلاس میں ارکان اسمبلی کی جانب سے حالیہ گرفتاریوں، امن و امان کی صورتحال اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر گفتگو متوقع ہے، جبکہ اجلاس کی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے فیصلوں اور قراردادوں سے صوبائی حکومت اور اسمبلی کا مؤقف مزید واضح ہوسکے گا۔