عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو 23 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو 23 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

عدالت نے مختلف مقدمات میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کی گرفتاری پر پابندی عائد کردی ہے۔

 انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کو درج ہونے والے مقدمات اور دیگر احتجاجی کارروائیوں سے متعلق 243 درخواستوں پر سماعت ہوئی۔دوران سماعت، عدالت نے تمام متعلقہ پی ٹی آئی ایم این ایز اور رہنماؤں کو 23 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری میں بھی 23 جولائی تک توسیع دے دی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے یہ سماعت کی۔ اس دوران، پی ٹی آئی کے ایم این ایز، جن میں عمیر نیازی، لطیف کھوسہ، جنید اکبر، ارباب شیر علی، ساجد خان مہمند، سینیٹر فلک ناز چترالی شامل ہیں، عدالت میں پیش ہوئے۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان، راجہ بشارت، رؤف حسن، نیاز اللہ نیازی، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی، سیمابیہ طاہر، نادیہ خٹک، میجر ر طاہر صادق اور دیگر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مختلف تھانوں میں، جن میں کوہسار، کھنہ، ترنول، کراچی کمپنی، سیکرٹریٹ شامل ہیں، مقدمات درج ہیں۔ عدالت کا یہ حکم ان مقدمات کی تفتیش اور کارروائی کو محدود کرنے کی غرض سے جاری کیا گیا ہے۔