سینکڑوں سکول فنڈز نہ ملنے پرمالی بحران کا شکار

فنڈز میں کٹوتی پرپہلے سے بھی کم بجٹ جاری ،نظرثانی کی جائے:ٹیچر زیونین 
لاہور(خصوصی رپورٹ)لاہور میں سینکڑوں سکول مناسب فنڈز نہ ملنے کے باعث مالی بحران کا شکار ہوگئے۔ فنڈز میں کٹوتی پرسکولوں کو پہلے سے بھی کم بجٹ جاری ہوا 11کروڑ کے فنڈز جولائی،اگست ،ستمبر کے نان سیلری بجٹ کی مد میں جاری کیے گئے۔فنڈزتنخواہوں کے علاوہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہوتے ہیں ۔گورنمنٹ اسلامیہ پرائمری سکول جیا موسیٰ کو 5 لاکھ 62 ہزار ،گورنمنٹ ہائی سکول جیون ہانہ کو صرف 63 ہزار ،گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول برکت ٹائون کو 31 ہزار ،گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کینٹ کو 18 ہزار ،گورنمنٹ پرائمری سکول میاں میر،گڑھی شاہو،سلامت پورہ،شاہدرہ،ستارہ کالونی کو 30 ہزار سے بھی کم نان سیلری بجٹ دیا گیا، گورنمنٹ گرلز ہائرسیکنڈری سکول قلندرپورہ کو 2 لاکھ 80 ہزار فنڈز دیئے گئے۔ سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نذیر حسین کا کہنا ہے کہ فنڈز فراہم کرنا پی ایم آئی یو کی ذمہ داری ہے۔این ایس بی ایم ایز کی نشاندہی پر ضروریات کیمطابق دیا جاتا ہے۔پنجاب ٹیچر زیونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت کا کہنا ہے کہ ایجوکیشن اتھارٹی این ایس بی کی تقسیم پر نظرثانی کرے۔ فنڈز نہ بڑھائے گئے تو معیاری تعلیم کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔صوبائی وزیر تعلیم این ایس بی بڑھانے پر توجہ دیں۔