پاکستان کی بیوٹیشن، بزنس ویمن اور سماجی کارکن مسرت مصباح نے حال ہی میں ایک پروگرام میں اپنی ازدواجی زندگی اور علیحدگی کے بارے میں کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی صرف 18 سال کی عمر میں ہوئی تھی، مگر یہ رشتہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔مسرت مصباح نے پہلی بار طلاق کے موضوع پر عوامی سطح پر گفتگو کی ہے، جس سے پہلے وہ اس بارے میں بات کرنے سے گریز کرتی تھیں۔ ایک مذہبی عالم سے مشورہ لینے کے بعد، انہوں نے محسوس کیا کہ اپنی کہانی شیئر کرنا دوسری خواتین کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت محمد ﷺ بھی اپنے خاندانی معاملات کو لوگوں کی رہنمائی کے لیے بیان کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کو عوام کے ساتھ شیئر کرنا شروع کیا تاکہ گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کی جا سکے۔
مسرت مصباح نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے خاندان میں خواتین کا بلند آواز میں بات کرنا عام نہیں تھا، مگر شادی کے بعد جب انہیں گھریلو تشدد اور خوف کا سامنا ہوا، تو انہوں نے اپنے بچوں کے لیے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران، ان کے والد اور دیگر خاندان کے افراد نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔یاد رہے کہ مسرت مصباح نے ماضی میں بتایا تھا کہ ان کے شوہر تشدد کے دوران انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بال کاٹ دیے تاکہ ان کے شوہر کے ہاتھوں میں ان کے بال نہ آئیں اور وہ بدترین تشدد سے بچ سکیں۔