بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ اور دیگر علاقوں میں جمعہ کی صبح زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمی ہونے والے افراد سامنے آئے ہیں۔
ہلاکتیں اور زخمی:
بنگشال کے کسائیتولی علاقے میں ایک پانچ منزلہ عمارت کا ایک حصہ گرنے سے تین راہگیر ہلاک ہوگئے۔ ہلاک شدگان کو فوری طور پر ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
نارائن گنج کے روپ گنج علاقے میں ایک مکان کی دیوار گرنے سے نومولود فاطمہ ہلاک ہوئی، جبکہ اس کی والدہ کلثوم بیگم اور پڑوسی جیسمین بیگم زخمی ہوگئیں۔
بنگلہ دیش کے گبٹولی اور نرسنگدی میں گھر کی دیوار گرنے سے 10 سالہ بچہ عمر ہلاک ہو گیا۔ بچے کے والد اجول شدید زخمی ہیں جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے 10 طالب علم اور دیگر زخمی افراد، جن کی تعداد کم از کم 90 ہے، کو ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں ایک رکشہ ڈرائیور کی حالت تشویشناک ہے۔
زلزلہ کی شدت اور مرکز:
زلزلہ صبح 10:38 بجے مقامی وقت کے مطابق آیا۔
شدت 5.7 ریکٹر اسکیل پر ریکارڈ کی گئی۔
مرکز بنگلہ دیش کے نرسنگدی کے علاقے مدھابادی میں تھا۔
یہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں سب سے شدید زلزلہ ہے اور زمین پر آنے والے جھٹکوں کی شدت اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔
متاثرہ علاقے اور عمارتیں:
زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں اور مکانات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں زخمیوں اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے اور خطرناک عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے:
یہ زلزلہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے شدید اور ریکارڈ شدہ ہے۔
زمین کے اندر جھٹکے انتہائی طاقتور تھے، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
حکومتی اور ریسکیو ادارے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔