ویب ڈیسک:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم نکات پر بات کی۔
انہوں نے استفسار کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی نے کسی قسم کی ڈیل کی ہوتی تو وہ اتنے طویل عرصے سے جیل میں کیوں ہوتے؟انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران بانی پی ٹی آئی کے خلاف 200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور ہر بار کہا گیا کہ وہ کسی ڈیل کا حصہ بننے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
توشہ خانہ کیس پر بات
علیمہ خان نے توشہ خانہ 2 کیس کے حوالے سے بتایا کہ عدالت نے میرٹ پر بانی پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت منظور کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو یقین تھا کہ تمام مقدمات میں ضمانت کے بعد بانی پی ٹی آئی کو رہا کر دیا جائے گا، لیکن گزشتہ رات انہیں ایک "مضحکہ خیز" مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
24 نومبر کے احتجاج کی کال
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج آئین و قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 24 نومبر کی احتجاجی کال کے حوالے سے مختلف بیانات اور دباؤ کا سامنا ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی نے عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ کسی جھوٹی افواہ یا اطلاع پر توجہ نہ دیں اور احتجاج کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلیں۔
عوام کے لیے پیغام
علیمہ خان نے پاکستانی عوام اور اوورسیز کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور اس موقع کو اہم سمجھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی جمہوریت، عدالتی آزادی، اور سیاسی استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔
سیاسی ردعمل
علیمہ خان کی گفتگو سے یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اور ان کے حامی کسی بھی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور احتجاج کو ایک عوامی تحریک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔