بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کیلئے کبھی دروازہ بند نہیں کیا: بیرسٹر گوہر ، ن لیگ نے پاکستان کی اخلاقیات ختم کردی ہیں عمران نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف اسمبلی میں آواز اٹھانے کا کہا ہے: علیمہ خان
راولپنڈی ( خصوصی رپورٹ ) ن لیگ کیساتھ مذاکرات سے بانی پی ٹی آئی نے انکار کردیا انہوں پولی گرافک ٹیسٹ سے بھی جواب دیدیا چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجہ ،سینیٹر علی ظفر اوردوبہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی جبکہ ایک بہن علیمہ خان اور کزن قاسم زمان خان کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ملاقات کے بعد جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرگوہرنے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق ہم مایوس نہیں ہیں،انشااللہ وہ جلد رہاہونگے ،سارے کیسزسیاسی ہیں اوروہ ناحق جیل میں ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں اب بہت ہوگیا کامن سینس پرویل کرنی چاہئے ، ہماری دعا ہے بانی اسی ہفتے رہا ہوں، ان ہاوس تبدیلی ہمارے کارڈز پر نہیں نہ ایسا کوئی فیصلہ ہوا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کیلئے کبھی دروازہ بند نہیں کیا۔حکومت کے ساتھ انہوں نے بات چیت سے منع کیا تھا، اسٹیبلشمنٹ سے نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اتحاد کی طرف جائیں۔ اتحاد کا وقت ہے پارٹی اور افواج میں اتحاد ہونا چاہئے۔ بانی نے کہا فوج بھی میری ہے ملک بھی میرا ہے۔ بانی نے کہا اتحاد رکھو اور الرٹ رہو،ہم ملک ، فوج اور قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بہت اچھی رہی ہے ، انہوں نے قومی یکجہتی کی بات کی ہے۔بانی نے کہا پاکستان کو اس وقت اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا مودی نے شکست کھائی ہے وہ کوئی اور شرارت کرسکتا ہے،پوری قوم کو متحد ہوکر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔ بانی نے تمام مقتدرہ حلقوں کو پیغام دیا ہے ہوش کے ناخن لیں۔ ہم قومی یکجہتی کیلئے اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔احتجاجی تحریک ہمارا حق ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی بات ابھی نہیں ہوئی ہے۔ 6 مئی کو جیل میں بریفنگ سے متعلق بانی نے کوئی بات نہیں کی۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملاقات بہت بہت اچھی رہی ،لگتا یہ ہے کہ بانی سے اب ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔ نورین نیازی نے کہا کہ ملاقات اچھی رہی ملاقات کے بعد تینوں بہنوں کی مشاورت ہوئی اور پھر علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی نے کہا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ کسی صورت بات نہیں ہوگی کیونکہ ن لیگ نے پاکستان کی اخلاقیات ختم کردی ہیں۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد انصاف دفن ہوچکا ہے۔انہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف اسمبلی میں آواز اٹھانے کا کہا ہے۔بانی نے کہا اگر اسٹیبلشمنٹ بات کرنا چاہتی ہے پاکستان کے بارے تو وہ تیار ہیں ۔ سلیمان اور قاسم کے انٹرویو کاسن کر وہ بہت خوش ہوئے ۔ فیصل چودھری کو اسٹیبلشمنٹ سہولت دیتی ہے۔ بانی نے کہا تھا کہ اگر اب فیصل آیا تو اس سے ملاقات نہیں کرینگے۔دوسری طرف بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 9 مئی کے مقدمات میں تفتیشی ٹیم کے سامنے پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا۔لاہور پولیس کی ٹیم ڈی ایس پی آصف جاوید کی قیادت میں بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کے لئے اڈیالہ جیل پہنچی، تفتیشی ٹیم میں انسپکٹر محمد اسلم، انسپکٹر محمد عالم اور انسپکٹر محمد ارحم،پنجاب فارنزک یونٹ کے عابد ایوب شامل تھے ،جیل ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا ہے۔جیل میں عملہ بانی پی ٹی آئی کو سیل میں بلانے کیلئے گیا لیکن وہ نہیں آئے اور وکلا کی عدم موجودگی میں ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا۔ادھر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشری بی بی کی 1 مقدمہ میں عبوری ضمانتوں میں 17 جون تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کو اصالتاً یا ویڈیولنک پر عدالت پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ گزشتہ روز ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے لیکن ضمانت کی درخواستوں پر دلائل نہ ہوسکے، عدالت نے کہاکہ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر عدالت کیجانب سے فیصلہ سنایا جائے گا،بانی پی ٹی آئی کیخلاف احتجاج،توڑ پھوڑ جلائو گھیرائو کی دفعات کے تحت 6 مقدمات جبکہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں مقدمہ درج ہے۔