11پارکنگ پلازے التوا کا شکار

2018میں پارکنگ پلازوں کا تخمینہ لاگت 3ارب لگایا گیا،25ارب تک پہنچ گیا ،پانی کا چھڑکائو بھی نہ ہوسکا 
لاہور (خصوصی رپورٹ)شہر میں ٹریفک مسائل اور پارکنگ کی صورتحال ابتر ہونے لگی، 8برس سے 11پارکنگ پلازے التوا کا شکار ہیں ، منصوبے کے تخمینہ لاگت میں 22 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔ تفصیل کے مطابق 2018میں پلازوں کا تخمینہ لاگت 3ارب روپے لگایا گیا،2025 میں تخمینہ لاگت 25ارب روپے تک پہنچ گیا۔داتا دربار ،شیرانوالہ گیٹ،ہال روڈ ،ٹائون ہال ،برکت مارکیٹ ،فیروز پورروڈ ،ہائیکورٹ ،اکبری گیٹ ،اتفاق ہسپتال ،دہلی مسلم ہسپتال سے منسلک پلازہ بھی تعمیر نہ ہو سکا۔5پارکنگ پلازے ایم سی ایل، 2 اوقاف ،2 پی ایچ اے، ایک ایل ڈی اے اور ایک لیکو ڈیشن بورڈ کی اراضی پر بنانے کی سمری التوا کا شکار ہے۔ ڈی سی موسیٰ رضا کا کہنا تھا 2پلازوں ٹولنٹن مارکیٹ اور نیلا گنبد کی بنیاد جلد رکھ دی جائے گی۔ادھر شہر میں 137 ارب مالیت کے جاری لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام نے ماحولیاتی ایس او پیز کو ہوا میں اڑا دیا۔ 3705 گلیوں کی تعمیر میں اڑنے والی دھول پر پانی کا چھڑکائو نہ ہو سکا۔ چندرائے روڈ ، کوٹھا پنڈ فلیٹس ، فیصل ٹائون سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں جاری منصوبوں پر ایس او پیز کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ، ماحولیاتی آلودگی کے خدشات بڑھ گئے ۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا کہنا تھا افسر لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کو ماحولیاتی ایس او پیز کے مطابق کر ائیں۔