جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق وزیراعظم ہان ڈک سو کو مارشل لا کے نفاذ میں معاونت کرنے کے الزام میں 23 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
سیئول ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج لی جن گوان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہان ڈک سو نے بطور وزیراعظم اپنے فرائض کو نظر انداز کیا اور آئینی نظام کی پامالی میں کردار ادا کیا، جسے عدالت نے بغاوت کے مترادف قرار دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ ہان کے اقدامات سابق صدر یون سک یول کے دسمبر 2024 میں مارشل لا کے اعلان کے مقصد کی حمایت کرنے کے مترادف تھے، جس کا مقصد آئینی نظام کو ختم کرنا تھا۔
اس سے پہلے چند دن قبل جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور مارشل لا کے اعلان کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔یہ معاملہ جنوبی کوریا میں آئینی اور سیاسی بحران کی شدت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں سابق حکمرانوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں جاری ہیں، اور ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے اثرات کی تحقیقات جاری ہیں۔