سید منیر حسین گیلانی
امریکہ کی دنیا کو فتح کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔امریکی قبضے کے خطرے کے پیش نظر گرین لینڈ میں نیٹو ممالک کی افواج پہنچ چکی ہیں۔ ایران میں امریکہ کے سپانسرڈ مظاہرے بھی دم توڑچکے ہیں۔ جبکہ فسادی انتشاری گروہ کے ارکان ایرانی عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ انہیں سخت سزائیں دی جائیں گی۔ امریکی صدر کے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے بار بار مطالبے سے اندازہ ہورہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کو دھمکیاں دینے والے خود کتنی مشکل میں ہیں۔کہا جارہا ہے کہ فسادی لوگ اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت اہم حکومتی اور دفاعی شخصیات کوقتل کرنے کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے۔ اگر امریکی خواہشات کے مطابق مظاہرو ں کے نتائج برآمد ہوتے تو ایران اور دنیا کا نقشہ آج بہت مختلف ہوتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرعون جیسے خدائی دعوے کرچکا ہے تو کوئی موسیٰ بھی الٰہی نمائندہ بن کر اس کا راستہ روکے گا اور وہ سرزمین ایران سے بہتر کوئی نظر نہیں آرہا۔ چونکہ باقی ممالک سمجھوتہ کرچکے ہیں یا پھر خوفزدہ ہیں۔ یہ یوکرائن اور روس کی جنگ کو ختم کروا کر نوبل امن ایوارڈ حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہا تھے،پاکستانی حکومت اور اسرائیل یہ اعزازامریکی صدر کے نام کرنے کے لئے ایک پیچ پر تھے۔امن کے دعوے کرنے والے ٹرمپ صاحب حماس اور اسرائیل کی جنگ کو بجائے ختم کروانے کے ،خود اس میں شریک ہو گیا اور غزہ کی مختصر سی پٹی میں اپنے وجود کی جنگ لڑنے والے حماس کے نوجوانوں کو ختم کرنے کے لئے باقاعدہ وسائل دے کر اسرائیل کی پشت پناہی کرتاآ رہا ہے۔لیکن اس کے خلفشاری ذہن میں ابھی تک بربریت کا نمونہ پایا تکمیل تک نہیں پہنچا ،حالانکہ اس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دنیا کو جنگوں سے پاک علاقہ قرار دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا لیکن عربی کہاوت ہے کہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹ کر جاتی ہے، اسی طرح امریکی صدر نے جنگوں کو ختم کرانے کی بجائے، اپنی فطرت کا اگلا قدم بھی اٹھا لیا۔ وینزویلا پر سینکڑوں جہازوں کے ساتھ حملہ کر کے محافظوں کو قتل کردیا۔ ملک کے منتخب صدر مادورو کواس کی بیوی اور دیگر ساتھیوں سمیت محل سے گرفتار کرلیا۔ انہیں قیدی بنا کر بحری بیڑے پر امریکہ لے جایا گیا اور ان پر مقدمہ چلا یا جارہا ہے تاکہ اپنے مفادات کے نام پر دباو ¿ بڑھا یا جائے ، جبکہ وینزویلا کی نائب صدر کو اقتداراور عملاً اختیار بھی دے دیا گیا۔وینزویلا پر حملے کی وجہ اس کے پاس سعودی عرب اور ایران سے بھی زیادہ،آئل اور گیس کے ذخائرہیں، جن پر امریکہ کو قبضہ کرنا تھا۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا پر قبضہ کرنے کی بات کر رہے تھے تو اس وقت ایران اور چین سب سے زیادہ تیل مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وینزویلا کا کروڈ آئل ہیوی ہے،جو مختلف ریفائنریز میں لائٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں، لہٰذا ٹرمپ صاحب کویہ کسی صورت برداشت نہیں تھا کہ یہ کروڈ آئل ایران اور چین کے قبضے میں چلا جائے ،کیونکہ وہ خرید کر قابل استعمال بنا کر مارکیٹ میں بیچ رہے تھے لیکن عربی مقولے کے مطابق کہ ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے ،تو اس نے وینزویلا پرحملہ کر کے اس پر اکتفا نہیں کیا،بلکہ زیر زمین معدنیات سے مالا مال نہ صرف گرین لینڈ پر بھی قبضے کی دھمکی دی ہے، بلکہ کیوبا ،کینیڈا، میکسیکو سمیت دیگر ممالک پرقبضے کااعلان بھی کر رکھا ہے۔وینزویلا پر کامیاب فوجی کارروائی سے ٹرمپ نے یہ محسوس کر لیا کہ اب ایران کے تیل اور گیس پر بھی قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن شاید وہ یہ بھول گیا کہ ایران کا اسلامی انقلاب آیت اللہ سید روح اللہ خمینی الموسوی کی قیادت میں رونما ہوا ،ان کی وفات کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر اور ملت اسلامیہ کے ’ولی فقیہہ ‘کی حیثیت سے اقتدار میں ہیں۔ یورپ ، امریکہ اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک کو کسی صورت بھی روحانی قیادت برداشت نہیں کیونکہ ان کی موجود گی میں ایران اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضے کی سوچ شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتی۔اس لئے وہ رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت لانا چاہتے ہیں اور بار بار بیانات دے رہے ہیں کہ ایران کو قیادت وہ فراہم کریں گے۔لہٰذا امریکہ اور اسرائیل نے اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر انقلاب اسلامی ختم کرکے امریکی سرپرستی میں لبرل طرز کا انقلاب لانے کی کوشش کی۔ جس میں ایرانی قیادت کا خاتمہ ، اور ملک میں افر تفری پھیلا کر حکومت سے ناراضگی کا اظہار کرنے والے لوگوں کو اکٹھا کیا اور باہر بیٹھی سازشی قوتوں ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ڈائریکٹ مداخلت شروع کر دی۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ انقلاب اور رہبر اعلیٰ کی مخالف قوتیںمنظم شکل میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرتی رہیںلیکن سپریم لیڈر خامنہ ای کے خطبہ جمعہ اور میدان آزادی اور ایران کے دیگر علاقوں میں عوام کا قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کی وجہ سے سازشی جتھوں اور بیرونی قوتوں کو منہ کی کھانا پڑی اور پورے ایران میں ایک بار پھر،مرگ بر امریکہ،مرگ بر اسرائیل اور مرگ بر دشمن ولایت فقیہہ کے پر جوش اور جذبے کو ابھارنے والے نعروں نے امریکی اشارے پر فساد پھیلانے والوں کی زبانوں کو بند کردیا۔ان فسادات کو پھیلانے کے لئے امریکہ کے بڑے سرمایہ دار ایلن مسک کو بھی میدان میں اتارا گیا ، ایران نے ان ہنگاموں کے دوران سیٹلائٹ نظام بند کردیا ، جس سے عوام تک بیرونی خبروں کا پہنچنا مشکل ہو گیا۔ پہلے ایلن مسک نے لاکھوں کے حساب سے سیٹلائٹ ڈیوائسز جہازوں کے ذریعے تخریب کاروں پر پہنچائیں لیکن انقلاب اسلامی ایران کو رب ذوالجلال نے مضبوط سے مضبوط ترکرنا تھا ،ایرانی سائنس دانوں نے اس ڈیوائس کو اپنے سیٹلائٹ کے ذریعے ناکارہ بنادیا۔ اس طرح جو لوگ شر پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے ، تخریبی عمل سے دور ہو گئے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ کو ایک اور دھچکا لگا اور ایرانی حکام نے ایک نیا قدم اٹھایا ،غیر ملکی تخریب کار جو کہ صیہونی ریاست اسرائیل کے ایما پر تخریبی کارروائیوں کو آگے بڑھاوا دے رہے تھے ،انہیں رنگے ہاتھوں موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ اب انہیں عدالتوں میں پیش کر کے کڑی سے کڑی سزائیںدی جائے گی۔جس کے لئے قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکی کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ میں اس خدشے کا صحیح اظہار کیا کہ ایران گرفتار شدہ تخریب کاروں کو پھانسی جیسی کڑی سے کڑی سزا دے گا۔اس لئے اپنے ایجنٹوں کو بچانے کے لئے وہ ایران پر حملہ کرنے اور پھر نہ کرنے کے بیانات دے رہا ہے۔اسی دوران ایران میں موجود مختلف ممالک کے سفارت کاروں کوبریفنگ دی گئی جبکہ اپنے پڑوسی ممالک کو بھی آگاہ کیا کہ اگر کسی ملک سے امریکی بحری بیڑے نے ایران پر حملہ کیاتو ہم اس کا شدید رد عمل دیں گے۔ لہٰذا سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، شام اور مصرنے امریکی حکومت کو بتا دیا کہ ہم ایران پر حملے میں آپ سے کوئی تعاون نہیں کریں گے۔ اس سفارتی ناکامی پر امریکہ نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ذرائع کے مطابق ایران پکڑے گئے دہشت گردوں کو سزائے موت نہیں دے گا۔ لہٰذا میں ایران پر حملہ کرنے کا حکم واپس لے رہا ہوں۔ ایران کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی ہے، ملک کے اندرونی حالات بہتر اور انقلاب اسلامی کے مخالف کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔جس سے ایران کی روحانی حکومت مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔ انشاء اللہ آنے والے دنوں میںمجرموں کو سزا ملے گی۔لیکن یہ واضح ہوگیا کہ امریکہ کو اپنے منہ کی کھانا پڑی ہے۔۔۔END۔۔۔