ایران،حزب اللہ اورامریکی پالیسی

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)

صرف ایک سال قبل تک حزب اللہ کی عسکری،سیاسی،اورمعاشرتی ترقی نے اسے لبنان میں ایک ناقابلِ نظراندازقوت بنادیاتھااور اس کی طاقت کااثرنہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں محسوس کیاجاتاتھا۔حزب اللہ کااسرائیل کیلئے چیلنج بننااورایران کی ممکنہ حکمتِ عملی اب بھی باہمی طورپرجڑے ہوئے ہیں اورخطے کی جغرافیائی سیاست میں گہرے اثرات رکھتے ہیں۔لبنان میں حزب اللہ نہ صرف عسکری تنظیم ہے بلکہ ایک سیاسی جماعت اورفلاحی ادارہ بھی ہے،جوعوامی خدمات فراہم کرتاہے۔اس کی مقامی حمایت اسے مزیدمستحکم بناتی ہے،جس سے اسرائیل کیلئے اسے عسکری طورپرکمزورکرنامزیدمشکل ہوجاتاہے۔
حزب اللہ کے پاس جدیدمیزائل سسٹمز،ڈرون ٹیکنالوجی،اورگوریلاوارفیئرمیں مہارت ہے،جواسرائیل کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ 2006کی لبنان-اسرائیل جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیل کوحیران کن مزاحمت کاسامناکرایاتھا،جس کے بعداسرائیل نے اپنی شمالی سرحدپردفاعی نظام کومزیدمضبوط کیا۔اس وقت حزب اللہ کے پاس اندازالاکھ سے زیادہ میزائل اورراکٹ موجودہیں،جن کی رینج اسرائیل کے بڑے شہروں تک پہنچ سکتی ہے۔اگرچہ اسرائیل کے پاس جدید دفاعی نظام،جیسے آئرن ڈوم،موجودہیں،حزب اللہ کی مسلسل عسکری ترقی اورجنوبی لبنان میں اس کے ٹھکانے اسرائیل کیلئے مسلسل خطرہ بن گئے تھے ۔ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں دونوں اطراف بھاری نقصان کاسامنا بھی کرناپڑا لیکن حزب اللہ کی استعداداسرائیل کیلئے ایک مستقل خطرہ ثابت ہوئی۔
حزب اللہ لبنان میں ایک مضبوط سیاسی اورعسکری قوت ہے جس کاایران کے ساتھ گہراتعلق ہے۔اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کوکمزورکرنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود تنظیم نے شام کی خانہ جنگی میں حصہ لیکرمزیدعسکری تجربہ حاصل کیاتھا لیکن شام سے بشارالاسدکے فرارکے بعدحزب اللہ کاوجودبھی ختم ہوچکاہے۔تاہم لبنان میں عوامی حمایت اورایرانی مالی وعسکری امدادنے حزب اللہ کواب تک برقراررکھاہواہے،لیکن داخلی معاشی بحران اورسیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ  حالیہ پسپائی کے بعدتنظیم کیلئے چیلنجزپیداہوچکے ہیں۔
اسرائیل اب بھی خاص طورپرشام اورلبنان میں حزب اللہ کے عسکری انفراسٹرکچرکوتباہ کرنے کیلئے فضائی حملوں اورانٹیلی جنس آپریشنزپرانحصارکررہاہے، ۔اسرائیل کی کوشش ہے کہ حزب اللہ کواتناکمزوررکھاجائے کہ وہ اسرائیل کے خلاف بڑی عسکری کارروائی نہ کرسکے۔تاہم،مکمل عسکری انخلانہ ہونے کی وجہ سے سرحدپرکشیدگی برقرارہے۔کیاان حالات میں حزب اللہ اسرائیل کیلئے چیلنج بن سکتی ہے؟آئیے اس کاجائزہ لیتے ہیں۔
26جنوری کے دن ہزاروں بے گھرلبنانی شہریوں نے جنوبی لبنان میں واقع اپنے گھروں کوواپس لوٹنے کی کوشش کی۔انقلابی موسیقی سنتے،حزب اللہ کاپرچم فخرسے لہراتے، قافلوں میں سفرکرنے والے ان لوگوں کوایک سال کی جنگ کے بعدواپسی پرپتہ چلاکہ ان کے گھررہے ہی نہیں تھے۔تاہم موٹرسائیکل سوارنوجوان حزب اللہ کے پرچم لہراتے ہوئے اورہارن بجاتے ہوئے ان علاقوں سے گزرے جہاں اہل تشیع آبادنہیں توچندمقامی افرادسے ان کی مدبھیڑہوئی کیوںکہ ان قافلوں کواشتعال انگیزحرکت کے طورپردیکھا گیا ۔انہوں نے اپنے نقصان پرتاسف کااظہارکیااورتباہ شدہ عمارات میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی تصاویرآویزاں کر دیں۔
اس دن اسرائیلی فوجیوں کے انخلامکمل ہوناتھاجوامریکااورفرانس کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کی شرط تھی۔اس شرط کے تحت حزب اللہ کوجنوبی علاقوں سے ہتھیاراورجنگجو بھی ہٹاناتھے جبکہ ہزاروں لبنانی فوجیوں کی جنوب میں تعیناتی ہوناتھی۔ تاہم اسرائیل کاکہناہے کہ لبنان نے معاہدے پرمکمل عملدرآمدنہیں کیااوراس کانتیجہ یہ نکلاکہ اسرائیلی فوج کا انخلابھی مکمل نہیں ہوا ۔لبنان نے بھی اسرائیل پرکچھ ایسے ہی الزامات لگائے ہیں اورجیساکہ متوقع تھا،حالات بگڑے۔چندعلاقوں میں اسرائیلی فوجیوں نے گولیاں چلادیں اور ایک لبنانی فوجی سمیت24افرادہلاک ہوئے۔تاہم جنوبی لبنان میں دہائیوں سے سب سے بڑی طاقت حزب اللہ کوایک بارپھراپنی طاقت کے اظہارکاموقع مل گیاجسے اسرائیل سے جنگ میں بہت نقصان اٹھاناپڑاتھالیکن حزب اللہ کے اس جواب نے اسرائیل اوراس کے اتحادیوں کوپھرسے ششدرکردیاہے لیکن بڑاسوال یہ ہے کیاحزب اللہ بطورگروہ لبنان اورمشرق وسطی میں وقوع پذیرہونے والی تبدیلیوں سے بچ کرزندہ رہ سکے گی؟
گذشتہ دہائیوں میں حزب اللہ نے ایک عسکری،سیاسی اورمعاشرتی تحریک کے طورپرلبنان کے سب سے طاقتورگروہ کی حیثیت اختیارکرلی تھی جس نے ایرانی حمایت اورمددسے لبنانی فوج سے بھی زیادہ عسکری طاقت اورمہارت حاصل کرلی۔دوسری جانب پارلیمان میں موجودگی کی وجہ سے حزب اللہ کے بغیرکوئی اہم ملکی فیصلہ ممکن نہیں ہوتا تھا۔مختصرطورپریہ کہاجاسکتاہے کہ حزب اللہ کسی بھی وقت ملک کومنجمندکرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی تھی اورکئی باراس نے کیابھی۔تازہ ترین تنازع اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہواجب حزب اللہ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے جواب میں ایک دوسرا محاذ کھول دیا۔گزشتہ ستمبرمیں کشیدگی اس وقت بڑھی جب اسرائیل نے ناقابل یقین حدتک حزب اللہ کے اندرگھس کرپہلے پیجر دھماکوں میں گروہ کے اراکین کی ہلاکت کی منصوبہ بندی کوعملی جامہ پہنایااوراس کے بعدوالکی ٹاکیزبھی اسی طرح استعمال ہوئیں۔
دوسری جانب فضائی حملوں اورجنوبی لبنان پرزمینی حملے میں عام شہریوں سمیت چارہزارافرادہلاک ہوئے اورخصوصی طورپر حزب اللہ کی حمایت کرنے والے علاقوں میں بہت جانی اورمالی نقصان کے علاوہ حزب اللہ کوبھی بھاری چوٹ پہنچی۔بہت سے رہنما قتل ہوئے،حسن نصراللہ سمیت،جوتین دہائیوں سے حزب اللہ کاچہرہ تھے۔ان کے جانشین نعیم قاسم،جو حسن نصراللہ جتنے بااختیار نہیں،نے تسلیم کیاہے کہ ان کو’’تکلیف دہ‘‘نقصانات پہنچے ہیں۔نومبرمیں جنگ بندی کااعلان ایک طرح سے حزب اللہ کی جانب سے ہتھیارپھینکنے کے برابرتھاجسے امریکا،برطانیہ سمیت بہت سے ممالک میں دہشتگردگروہ سمجھاجاتاہے۔
گذشتہ ماہ نئی حقیقت کاادراک اس وقت ہواجب لبنان کی پارلیمنٹ نے سابق آرمی چیف جوزف اون کونیاصدرمنتخب کرلیاجن کی حمایت امریکامیں بھی پائی جاتی ہے۔یہ انتخاب دوسال تک ایک بحران کے بعدہواجس کی وجہ حزب اللہ بتائی جاتی ہے۔تاہم کمزور حزب اللہ اس باراس عمل کوماضی کی طرح روک نہیں سکی۔ایسی ہی ایک اورپیش رفت نئے صدرکی جانب سے نواف سلام کی بطوروزیراعظم تعیناتی تھی جوبین الاقوامی عدالت انصاف کے صدرکے طورپر کام کررہے تھے۔ان کوحزب اللہ کاحامی نہیں سمجھا جاتا۔
فی الحال حزب اللہ کی توجہ اورترجیح اس کی اپنی بنیادہے۔حزب اللہ نے اپنے لوگوں کوبتارکھاہے کہ جنگ میں ناکامی حقیقت میں اس کی فتح ہے لیکن لبنان میں اکثریت جانتی ہے کہ سچائی مختلف ہے۔آبادیاں تباہ ہوچکی ہیں اورعالمی بینک کے مطابق عمارات کوپہنچنے والے نقصان کاتخمینہ تین ارب ڈالرسے زیادہ کالگایاگیاہے۔تباہ حال معیشت کے ساتھ لبنان میں کوئی نہیں جانتاکہ مددکہاں سے آئے گی کیونکہ بین الاقوامی امداد کوحکومت کی جانب سے حزب اللہ کی طاقت کولگام دینے کے اقدامات سے مشروط کردیاگیا ہے۔حزب اللہ نے 2006کی جنگ کے بعدکی طرح بہت سے لوگوں کی مالی امدادکی ہے تاہم اشارے مل رہے ہیں کہ حزب اللہ سے لوگوں کی امیدیں دم توڑرہی ہیں۔
’’واریئرزآف گاڈ:انسائیڈحزب اللہ سٹرگل اگینسٹ اسرائیل‘‘کے مصنف نکولس بلینڈفورڈکے مطابق ’’چھ ماہ بعدبھی لوگ خیموں یااپنے مکانات کے کھنڈرات میں رہ رہے ہوئے توشایدوہ جنگ کیلئے اسرائیل یالبنانی حکومت کی بجائے حزب اللہ کوموردالزام ٹھہراناشروع کردیں۔ایسی صورت حال میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔تاہم حزب اللہ کے خلاف کارروائی خطرات سے بھرپور ہوگی۔حزب اللہ کی عسکری طاقت کی وجہ سے یہ گروہ تشددکی ڈھکی چھپی دھمکی استعمال کرتاتھاکہ اگرانہیں دیوارسے لگانے کی کوشش کی گئی تووہ بہت سخت جواب دیں گے‘‘۔ایک مغربی سفارت کارنے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ’’ہم لبنان کی اپوزیشن اوردیگرممالک میں لوگوں کوبتارہے ہیں کہ حزب اللہ کودیوار سے لگانے کی کوشش کاالٹااثرہوسکتاہے اورتشددکاخطرہ ممکن ہے‘‘۔تاہم لبنان میں ایک نیاباب لکھاجارہاہے جہاں کرپشن اورحکومتی مسائل سمیت تشددکی نہ ختم ہونے والی لہرسے لوگ تھک چکے ہیں۔(جاری ہے)