9 مئی کے معاملے پر اگر ظلم ہی کرنا ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ؟عارف علوی

9 مئی کے معاملے پر اگر ظلم ہی کرنا ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ؟عارف علوی

کراچی میں سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر عارف علوی نے مختلف اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

9 مئی کے واقعات پر ردعمل
عارف علوی نے کہا کہ اگر 9 مئی کے معاملے پر صرف ظلم ہی کرنا ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ؟انہوں نے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔
ملکی معیشت اور حالات
سابق صدر نے کہا کہ ملک کے معاملات کو ہمیں خود ٹھیک کرنا ہوگا۔انہوں نے پاکستان کی معیشت کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبے میں بہتری نظر نہیں آرہی۔مشرق وسطیٰ سے سرمایہ کاری کے خواب دکھائے گئے، مگر وہ پورے نہیں ہوسکے۔
ڈیپ اسٹیٹ پر تبصرہ
عارف علوی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے ملک سمیت دنیا بھر میں ڈیپ اسٹیٹ کی مداخلت نہیں چاہتے۔انہوں نے پاکستان کو ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے جمہوریت کے ذریعے تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
تعلیمی نظام اور غربت
انہوں نے کہا کہ غریب مزید غریب ہوگیا ہے، اور ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
معیشت پر نقصان
سابق صدر نے کہا کہ رجیم چینج کی وجہ سے ملک کو 50 ارب روپے کا نقصان ہوا۔جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد سے بھی نیچے آچکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس اپنا ڈی سی تعینات کرنے تک کا اختیار نہیں ہے۔
نتیجہ
عارف علوی نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں اور جمہوری عمل کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔