ویب ڈیسک: امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کی کھل کر تعریف کی اور ایبی گیٹ بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری پر پاکستان کو سراہا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا پاکستان سے اچانک نرم رویہ اپنانا واشنگٹن کے اکثر حلقوں کے لیے حیران کن ثابت ہوا۔ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بند کمرے میں دوپہر کے کھانے پر ملاقات بھی کی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان امریکا۔پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے، انسدادِ دہشت گردی تعاون، غیرملکی سرمایہ کاری اور تجارت کے ذریعے پاکستانی معیشت کو فعال بنانے پر گفتگو ہوئی۔امریکی اخبار کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عالمی توجہ حاصل کی۔ وہ صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے والے پہلے عالمی رہنما بنے، یہ تجویز مبینہ طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا۔پاک تعلقات فوجی اور انسدادِ دہشت گردی تعاون سے بڑھ کر تجارتی مذاکرات اور محصولات میں معاونت تک پھیل رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ پاکستان میں قیمتی معدنیات، اہم وسائل اور کرپٹو کرنسی منڈیوں میں بڑی صلاحیت دیکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی کے مثبت رجحان کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔
اخبار نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ذاتی تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں میں فطری ہم آہنگی موجود ہے، تاہم چین اور افغانستان جیسے معاملات پر اختلافات بھی باقی ہیں۔ ان تعلقات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ چیلنجز کس طرح سنبھالے جاتے ہیں۔امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ امریکا کے لیے بہتر تجارتی معاہدے چاہتے ہیں اور مضبوط قیادت رکھنے والے رہنماؤں کو سراہتے ہیں۔ ٹرمپ نہیں چاہتے کہ جنگیں معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالیں۔ وہ روس اور چین سے آنے والے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی ایشیاء کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو بھارتی وزیراعظم مودی کے توڑ کے طور پر "مسٹر منیر" کی صورت میں ایک نیا شراکت دار مل گیا ہے۔