جے یو آئی حکومت مخالف تحریک خود چلائے گی، پی ٹی آئی سے فاصلہ برقرار

جے یو آئی حکومت مخالف تحریک خود چلائے گی، پی ٹی آئی سے فاصلہ برقرار

ویب ڈیسک:جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی جنرل کونسل کے اہم اجلاس میں پارٹی نے بڑا سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جے یو آئی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ باضابطہ اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔

 یہ فیصلہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کی اندرونی قیادت میں اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

 "ایشو ٹو ایشو" حکمت عملی
ذرائع کے مطابق، جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی قیادت میں اتفاق رائے کا فقدان ہے اور پارٹی کی سمت واضح نہیں، اسی لیے جے یو آئی نے طے کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مسئلہ بہ مسئلہ (Issue-to-Issue) تعاون کرے گی، مگر مستقل سیاسی الائنس کا حصہ نہیں بنے گی۔

 مولانا فضل الرحمان کو فیصلہ سازی کا اختیار
مرکزی جنرل کونسل نے پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آئندہ کی سیاسی حکمت عملی وضع کرنے اور فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ تنظیمی سطح پر متفقہ طور پر کیا گیا تاکہ پارٹی متحدہ اور مضبوط پوزیشن میں رہے۔

 حکومت کے خلاف تحریک کا اعلان
جے یو آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنے طور پر حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رکھے گی، اور اس تحریک کو پارٹی کی پالیسی اور اصولوں کے مطابق منظم کیا جائے گا۔

  سیاسی تجزیہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، جے یو آئی کا یہ قدم ملک میں بنتے بگڑتے سیاسی اتحادوں کے تناظر میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف اپوزیشن میں نئی صف بندی متوقع ہے بلکہ موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھنے کا بھی امکان ہے۔