محمد نوید مرزا
لاہور شہر علم و ادب کا گہوارہ ہے،یہاں ایک ہفتے میں دس میلوں کی روایت مشہور ہے،اسی طرح یہاں علمی و ادبی تقریبات کا بھی مسلسل انعقاد ہوتا رہتا ہے۔پچھلے دنوں مجھے بھی دو دن میں تین تقریبات میں شرکت کا موقع ملا،پہلی تقریب بابا فرید ادبی فورم کے زیر اہتمام پنجابی کے معروف شاعر جناب طاہر نعیم کی کتاب،پھلاں نال یارانے کی تقریب پذیرائی تھی،جس کی صدارت معروف شاعر جناب نثار ترابی نے کی۔مہمانان خصوصی میں جناب ممتاز راشد لاہوری،محترمہ عائشہ اسلم اور جناب محمود الحسن گیلانی کے نام شامل ہیں۔نظامت کے فرائض جناب آفتاب خان نے سر انجام دئیے ،جب کہ اظہار خیال کرنے والوں میں جناب راجا نئیر،جناب زاہد حسن ،محمد نوید مرزا اور دیگر بہت سے احباب کے نام شامل ہیں۔یہ ایک شاندار تقریب تھی جس کے لئے راجا نیر مبارک باد کے مستحق ہیں۔تقریب میں طاہر نعیم کی پنجابی ادب کے لئے خدمات کو بھر پور انداز میں سراہا گیا۔
دوسری تقریب حلقہء ارباب ذوق کی بیاد رفتگاں اجلاس کی صورت تھی،جس کے صدارتی پینل میں جناب غلام حسین ساجد اور جناب اختر ہاشمی شامل تھے،تقریب میں ستر سے زائد مرحومین کو بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔جن احباب نے رفتگاں کے حوالے سے گفتگو کی ان میں جناب امر جالب،محمد نوید مرزا،ناصر بشیر،ایم ابرار اور بہت سے دیگر احباب کے نام شامل ہیں۔یاد رہے کہ حلقہ کی جانب سے چند ماہ پہلے بھی اسی طرح کی ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔
اس ہفتے کی تیسری تقریب اردو غزل کے نمائندہ شاعر شہزاد احمد کے حوالے سے تھی،جس کا اہتمام شہزاد صاحب کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر حلقہء تخلیق ادب نے کیا تھا۔شہزاد احمد نہ صرف جدید اردو غزل کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں بلکہ ان کی کئی اور کاوشیں بھی قابل قدر ہیں۔شہزاد صاحب فلسفہ ،نفسیات ،تراجم ،ڈرامہ نگاری اور گفتگو کے ہنر سے شناسا ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جن کے نام اور کام سے دنیائے ادب پوری طرح واقف ہیں،انھوں نے ملکی و غیر ملکی کئی کانفرنسز،مشاعروں اور تقریبات میں شرکت کی۔وہ ترجمے کے فن سے بھی واقف تھے،شہزاد صاحب کو کئی سرکاری اور غیر سرکاری اعزاز ملے۔ان کی شاعری اور دیگر موضوعات پر درجن سے زائد کتب ہیں۔
شہزاد احمد کے حوالے سے حلقہ ء تخلیق ادب کی شاندار تقریب میں ان کے دونوں بیٹوں کے علاؤہ ان کے پوتے نے بھی شرکت کی۔تقریب کی صدارت جناب یونس نشاط صدیقی نے کی جب کہ مہمان خصوصی راقم الحروف محمد نوید مرزا تھے۔دیگر شعراء میں جناب روز عباس رضا،جناب طارق اسد،جناب ساحل ہاشمی،جناب شوکت مغل،جناب ذیشان رزمی ،جناب شان محمد ،جناب اشفاق فلک،جناب عدیل شیرازی اور جناب قاسم مقصود کے نام شامل ہیں۔اس موقع پر شہزاد صاحب کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا جو ان کے
پوتے نے بنایا تھا۔تقریب میں نہ صرف شہزاد صاحب کی انسان دوستی اور علمی و ادبی خدمات کو سراہا گیا بلکہ ان کی شعری زمین میں کہی گئی غزلیں بھی پڑھیں گئیں۔یہ ایک خوب صورت اور نہایت شاندار تقریب تھی،جس کی نظامت جناب اشفاق فلک نے کی۔آخر میں شہزاد صاحب کے چند شعر پیش خدمت ہیں۔۔۔۔
واقعہ کوئی نہ جنت ہوا میرے بعد
آسمانوں پہ اکیلا ہیخدا میرے بعد
پھر دکھاتا ہے مجھے جنت فردوس کے خواب
کیا فرشتوں میں ترا جی نہ لگا میرے بعد
جیتے رہو لہو میں حرارت ہے جب تلک
آنکھوں میں جب تلک ہے ضیاء جاگتے رہو
شہزاد لمحے لمحے میں پنہاں ہے زندگی
ہر ایک مرحلہ ہے نیا جاگتے رہو
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا