ریلی میں ہاتھا پا ئی ،60 تا 70 وکلا کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج

جسٹس جہانگیری کے حق میں ریلی کے دوران پی ٹی آ ئی وکلا پرصدر بار پر حملہ کا الزام 
 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )جسٹس جہانگیری کے حق میں ریلی کے دوران وکلا میں ہا تھا پا ئی، پی ٹی آ ئی کے وکلا پر اسلام آباد ہا ئیکورٹ بارکونسل کے صدر پر حملہ کا الزام ، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کونسل کے صدر کی مدعیت میں 60 سے 70 وکلا کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ گزشتہ روز جسٹس طارق محمودجہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روکے جانے کے خلاف وکلا نے اسلام آبادہائیکورٹ کے احاطہ میں ریلی نکالی ۔ ریلی کے اختتام پی ٹی آئی کے وکلا کی صدر ہائیکورٹ بار واجد علی گیلانی سے تلخ کلامی ہوگئی، پی ٹی آئی وکلا انتظار پنجوتھہ،نعیم پنجوتھہ،فتح اللہ برکی اور دیگر نے صدر بار واجد علی گیلانی سے دھکم پیل کی ۔ اس دوران وکیل انتظار حسین پنجوتھہ اور صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور ہاتھا پائی کی بھی کوشش کی گئی۔ وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل نصیر کیانی نے کہا انہوں نے دباؤ ڈالا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگوائے جائیں۔بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ بارکے صدر کی مدعیت میں 60 سے 70 وکلا کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیاجس کے مطابق نعیم حیدرپنجوتھہ ، انتظار پنجوتھہ ، ایمان مزاری ، زینب جنجوعہ ، ہادی علی چٹھہ سمیت دیگر وکلا نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر اور اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ واجد گیلانی نے انہیں منع کیا تو ان پر حملہ کیا گیا۔ انتظار پنجوتھہ کے پاس چاقو، نعیم پنجوتھہ کے پاس چھری تھی، ایمان مزاری وکلا کی قیادت کر رہی تھیں، ان سمیت دیگر نے کہا کہ واجد گیلانی کو جان سے مار دو۔