گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کو صاف ستھرا بنانے اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور اس معاملے میں کسی کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو صاف ستھرا بنانا ان کا عزم ہے، تاہم 13 سال سے جمع ہونے والا گند صرف تین دن میں صاف نہیں کیا جا سکتا، اس مقصد کے لیے وقت اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی غیر قانونی تجاوزات خود ختم کر دیں، بصورت دیگر حکومت کارروائی کرے گی۔ ان کے مطابق تجاوزات کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
پشاور میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان
گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ شہر میں سڑکوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی اور کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق صوبے کو صاف ستھرا اور شہریوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے صفائی مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور کوڑا کرکٹ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
صفائی مہم کے لیے متعلقہ ادارے متحرک
صوبائی انتظامیہ کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بازاروں، تجارتی مراکز، اہم شاہراہوں اور عوامی مقامات کو صاف رکھنے کے لیے متعلقہ عملہ دن رات مصروفِ عمل ہے۔حکام کے مطابق شہر میں صفائی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں، جن کا مقصد کوڑا کرکٹ جمع کرنے اور اسے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صفائی مہم کے ذریعے شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گورنر راج کے بعد انتظامی سرگرمیاں
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ صوبائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔تاہم، صفائی مہم اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکے گا کہ مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتِ حال کس حد تک بہتر ہوتی ہے اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔