ویب ڈیسک:اسلام آباد ہائی کورٹ میں وی پی این پر پابندی کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔
شہری مبشر قیوم کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وی پی این پر پابندی کا براہ راست اثر ان پر پڑا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 15 نومبر 2024 کو وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی اے کو غیر قانونی وی پی این سروسز بند کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (پرانا ٹوئٹر) پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، اور اس پابندی کو روکنے کے لیے شہری وی پی این کا استعمال کر رہے تھے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مس انفارمیشن اور پبلک آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے ایکس پر پابندی ضروری ہے، لیکن اس پابندی کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ وی پی این پر پابندی سے نہ صرف سکیورٹی انتظامات متاثر ہوئے ہیں بلکہ شہریوں کے آزادی اظہار رائے اور انٹرنیٹ پر معلومات تک رسائی کے حقوق میں بھی خلل پڑا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن اور اس پر عمل درآمد کو معطل کیا جائے کیونکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اس درخواست میں وفاقی حکومت کو وزارت داخلہ کے ذریعے فریق بنایا گیا ہے جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) بھی فریقین میں شامل ہے۔ درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ وی پی این کے ذریعے شہریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کا حق دیا جائے اور حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔یہ درخواست اس وقت دائر کی گئی ہے جب حکومت نے وی پی این سروسز کو محدود اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔