ویب ڈیسک:بچوں کا عالمی دن دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کو اجاگر کرنے اور ان کے تحفظ و فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن، جسے 1989 میں منظور کیا گیا، اس دن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کنونشن نے بچوں کے تعلیم، صحت، اور تحفظ کے بنیادی حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا۔پاکستان میں بھی اس دن کے حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پشاور میں نجی اور سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے آگاہی پروگرامز منعقد ہوئے، جہاں بچوں کو جنسی تشدد سے بچاؤ اور کسی نازیبا حرکت کی صورت میں ردعمل کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ مقررین نے والدین اور اساتذہ کے ساتھ بات چیت کی اہمیت پر زور دیا تاکہ بچے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
تقریبات کے دوران قمر زمان جیسے قومی ہیروز نے بچوں کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی حصہ لینے کی ترغیب دی، تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بن سکیں۔ یہ پروگرام بچوں کے لیے ایک محفوظ اور خوشحال ماحول کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچوں کی صحت، تعلیم، اور تحفظ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ وہ ایک محفوظ اور بہتر مستقبل کے خواب کو حقیقت میں بدل سکیں۔