عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ٹریژری ییلڈز میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ان عوامل نے سرمایہ کاروں کو سونے جیسے محفوظ مگر غیر منافع بخش اثاثے کے بجائے زیادہ منافع دینے والی سرمایہ کاری کی طرف مائل کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,467.59 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔ یہ سطح گزشتہ سیشن کے بعد سامنے آئی، جب سونا 30 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 4,471.10 ڈالر فی اونس تک گر گئے۔ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا ہے، اور طلب میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ ایک سال سے زائد کی بلند سطح کے قریب مستحکم رہی، جس سے سونا رکھنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔
مارکیٹ میں امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات بھی زیرِ اثر رہے۔ ایک جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے خواہاں ہیں، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کے عہدیداروں کے مطابق موجودہ شرح سود کو برقرار رکھنے کی پالیسی مہنگائی پر دباؤ کم کر رہی ہے، تاہم سرمایہ کار اب اس امکان پر بھی غور کر رہے ہیں کہ مستقبل میں شرح سود میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار فیڈ کی آئندہ پالیسی کے حوالے سے اپریل اجلاس کے منٹس کے منتظر ہیں۔دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں چاندی کی قیمت 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 73.22 ڈالر فی اونس رہی، پلاٹینم کی قیمت میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیلیڈیم میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔