جنگ تبھی رکے گی جب دشمن بلا شرط جارحیت بند کرے گا: ایرانی صدر

جنگ تبھی رکے گی جب دشمن بلا شرط جارحیت بند کرے گا: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ بیان میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مسلط کردہ جنگ کا خاتمہ صرف دشمن کی جارحیت کے بلامشروط خاتمے سے ممکن ہے۔

" ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی کوشش کی ہے، لیکن امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب ظلم، قبضے اور دہشتگردی کا مستقل خاتمہ ہو۔صدر پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ ایران نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ خطے میں صہیونی جارحیت کو ایک بنیادی خطرہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے صہیونی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کی حتمی ضمانت دینی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ:"ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہیں، چاہے وہ کہیں سے بھی ہو۔ امن کی راہ صرف اسی وقت ہموار ہوگی جب طاقت کے استعمال کا سلسلہ بند ہوگا اور مظلوموں کو انصاف ملے گا۔"
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایران پہلے ہی کئی بار عالمی اداروں سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔صدر پزشکیان کے اس مؤقف کو ایران کی روایتی پالیسی کا تسلسل بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا سب سے بڑا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔