لاہور: پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی آمدنی پر ٹیکس کا ہدف 200 فیصد اضافے کے ساتھ 10.5 ارب روپے مقرر کر دیا ہے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ اقدام پنجاب زرعی آمدنی ٹیکس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے تحت کیا گیا، جو 27 نومبر 2024 کو منظور ہوا تھا۔ بعد ازاں اس بل کے قواعد میں 6 مارچ 2025 کو مزید اصلاحات کی گئیں، جنہیں آئی ایم ایف کے مطالبات کے تحت نافذ کیا گیا۔
نمایاں نکات:
کمرشل فارمز پر ٹیکس اصول لاگو کیے جائیں گے، یعنی تجارتی بنیادوں پر چلنے والے زرعی کاروباروں کو اب ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔زیادہ آمدنی والے افراد پر سپر ٹیکس بھی نافذ کیا جائے گا۔جو افراد ریٹرن فائل نہیں کریں گے یا ٹیکس کی بروقت ادائیگی میں ناکام ہوں گے، ان پر جرمانے میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کا مقصد زرعی شعبے سے آمدنی کے ذرائع کو بہتر بنانا اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے، تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مالی معاہدوں کے تحت محصولات کا ہدف پورا کیا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بڑے زمینداروں اور زرعی سرمایہ داروں پر مالی دباؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ چھوٹے کسانوں کو اس پالیسی سے استثنیٰ دیئے جانے کا امکان ہے، تاہم سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔